ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 349
مصر میں اسلام کا مستقبل حضور کی خدمت میں مصر کا ایک خط پیش ہوا جس میں لکھا تھا۔حالت ایسی نازک ہے کہ تیس برس تک مصر میں اسلام کا نشان نہ رہے گا۔فرمایا۔یاد رکھو اور لکھ لو کہ تیس برس تک وہاں اسلام چمک اٹھے گا۔اندھیری رات ایک صبح صادق کی خبردیتی ہے۔(ماخوذ از مدینۃ المسیح۔الفضل جلد۱ نمبر ۱۵ مورخہ ۲۴؍ ستمبر ۱۹۱۳ء صفحہ ۱) پریمیم بانڈ کا انعام جوا ہے سوال ہوا کہ ہندوستان میں انگریزی پرامیسری نوٹ رائج ہیں خریدنے والے کو سود ملتا ہے۔اب یورپ کے دیگرملکوں نے بھی ہندوستان میں اپنے پرامیسری نوٹ رائج کئے ہیں اور بعض سہولتیں زائد دی ہیں۔(۱)سود ملتا ہے۔(۲)جب کوئی چاہے اپنا روپیہ واپس منگوا لے۔(۳)روپیہ ایک دفعہ نہیں بلکہ باقساط دینا پڑتا ہے۔(۴)نوٹ خریدنے والوں کو سال کے سال انعام دیا جاتا ہے بطور قرعہ اندازی جس کا نام نکل آوے۔مگر جس کو انعام دیا جاتا ہے اس کا روپیہ واپس نہیں دیا جاتا۔ان پرامیسری نوٹوں کا نام پریمیم بانڈ ہے۔ایک صاحب دریافت کرتے ہیں کہ کیا اس کا کاروبار کرنا اور انعام حاصل کرنا جائز ہے؟ بجواب حضرت خلیفۃ المسیح نے فرمایا۔یہ جُوا ہے۔(قماربازی) حضرت کا خط ظفر اللہ خان صاحب کے نام بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم نحمدہ و نصلی علیٰ رسولہ الکریم السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہٗ شیخ محمد اکبر صاحب کو محبت بھرا سلام علیکم۔یہ مبارک دعا ہے افسوس ہندوستان کے مسلمان اس سے محروم ہوگئے آہ ! آہ ! سیر میں کوئی دین و دنیا کا خیال رکھنا چاہئے و اِلَّا فضول ہے۔مسجد کی خبر مبارک ہو۔فِن لینڈ میں گھنٹوں کے حساب سے نماز روزہ ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ (یٰس:۴۰) یہ تقدیر منازل کا ارشاد ایسے بلاد کے واسطے ہے۔پیارے غور کرو چھتیس کروڑ روپیہ سالانہ چرچ آف انگلینڈ، اگر یہ لوگ مسیحی نہیں تو اتنا روپیہ پانی کی طرح کیوں بہاتے ہیں؟