ارشادات نور (جلد سوم۔ بعد از خلافت) — Page 218
کافروں کا مال ناجائز طریق سے ہتھیانا ایک مرتبہ مولوی … صاحب یہاں تشریف لائے انہوں نے ایک نوجوان کو میرے سامنے پیش کیا اور کہا کہ یہ غریب ہے پر بڑا ہی نیک ہے آپ اس کو اپنے ہاں ملازم رکھیں۔میں نے اس کو رکھ لیا۔اس کو ایک روز میں نے ایک چونی دی اور کہا کہ اس کے پیسے بازار سے لے آؤ۔وہ بازار گیا اور اس نے سولہ پیسے مجھے لا کر دیئے۔میاں نجم الدین بڑا ہوشیار آدمی ہے وہ کہیں اس کے پیچھے چلاگیا۔معلوم نہیں کہ اس نے اس کو پیسے لیتے ہوئے دیکھا نہیں۔جب وہ واپس آیا تو میاں نجم الدین نے اس سے پوچھا کہ چونی بھی تمہارے پاس ہے اور چار آنے کے پیسے بھی تم لے آئے ہو۔اگر پیسے تمہارے پاس تھے تو تم نے وہیں دے دیئے ہوتے بازار جانے کی کیا ضرورت تھی۔اس نے کہا کہ پیسے تو میں بازار ہی سے لایا ہوں میرے پاس تو نہیں تھے۔دکان پر ایک لڑکا بیٹھا ہوا تھا میں نے اس سے چار آنے کے پیسے لئے۔اس نے مجھے پیسے دے کر چو ّنی وہیں رکھ دی۔میں نے اس کو دھوکا دینے کے لئے کہا کہ فلاں چیز اندر سے لا کر دکھلاؤ۔وہ اندر لینے گیا۔میں نے چو ّنی اٹھالی پھر اس کو کہہ دیا کہ میں یہ چیز نہیں خریدتا اور اس طرح سے چو ّنیبھی لے آیا اور پیسے بھی۔میاں نجم الدین نے کہا کہ یہ تو ناجائز ہے۔اس نے کہا کہ کافروں کا مال ہے ان سے ایسا ہی کرنا چاہیے۔(النساء:۱۴۲)۔میاں نجم الدین نے مجھے بتلایا کہ یہ معاملہ اس طرح ہے۔میں نے مولوی صاحب سے اس واقعہ کا ذکر کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ امام شوکانی صاحب کا فتویٰ ہے اس لئے جائز ہے۔لڑکا نیک تو بہت ہے مگر اس فتویٰ سے مجبور ہے لیکن اگر یہ پکڑا جائے تو پھر کیا یہ نہ ہوگا کہ یہ نورالدین کا آدمی ہے۔دوسرے جب کافروں کا مال اس طرح سے لینا جائز ہے تو کل کو اگر یہ ہمیں بھی کافر کہہ دے تو پھر ہم کو بھی اسی طرح سے لوٹ لے گا۔پھر میں نے اس کو نکال دیا۔ایک مولوی کا کتابیں چورانے کا واقعہ فرمایا۔ایک اور لطیفہ سنائیں۔بھیرہ میں ہمارے