ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 86 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 86

نہیں لیکن نیک آدمیوں کو برا کہنے میں بہت زبان دراز ہیں۔اب انہیں مذکورہ بالا تینوں قوموں کی حالت میں غور کر لواور دیکھو کہ عیسائیوں میں فسق و فجور کی کس قدر کثرت ہے حتیٰ کہ ان کے یہاں کوئی قانون ہی نہیں جس میں زنا کا کوئی انسداد ہو۔پھر شیعوں کو دیکھو۔اُن میں فسق و فجور کی کس قدر کثرت ہے۔اسی طرح آریوں کے یہاں نیوگ کے مسئلہ نے فسق و فجور کی بہت راہیں پیدا کر رکھی ہیں۔ان تینوں قوموں نے اپنی بد زبانی اور بدگوئی کا کوئی نیک نتیجہ نہیں پایا۔افسوس ہے کہ اب بھی بعض لوگ عیب شماری میں مصروف رہتے ہیں۔میں اپنے تجربہ سے کہتا ہوں کہ جو شخص دوسروں کو ناحق عیب لگاتا ہے وہ نہیں مرتا جب تک کہ خود وہی یا اُسی قسم کا عیب نہیںدیکھ لیتا۔ہاں اگر سچے دل سے توبہ کر لے تو خدا بخشنے والا ہے۔مختلف ممالک میں الفاظ کے متضاد معانی بعض ملکوں میں جب بعض الفاظ جاتے ہیں تو اُن کے غلط معانی ہو جاتے ہیں۔مثلاً ہمارے ملک میں لفظ حرام کبھی اچھے معنوں میں استعمال نہیں ہوتا حالانکہ حرام عربی زبان میں بڑی عزت کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ملت کا مفہوم کسی خاص قسم کی تعلیم جو کسی نبی کے ذریعہ سے دنیا میں شائع ہو اُس کو ملت کہتے ہیں۔ملت کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کبھی نہیں ہوتی۔مثلاً ملت اللہ کبھی نہیں بولا جاتا۔جیسے ملت ابراہیم بولا گیا ہے۔دنیا کی مذمت حضرت رابعہ بصری کی مجلس میں ایک شخص نے دنیا کی بہت مذمت کی اور اسی طرح متواتر تین دن دُنیا کی مذمت بیان کی۔حضرت رابعہ نے فرمایا کہ اس شخص کو ہماری مجلس سے نکال دو کیونکہ اس کو دُنیا کا بہت خیال رہتا ہے۔تب ہی تو اُس کا بار بار ذکر کرتا ہے۔شیعوں کے نزدیک ائمہ کی وفات کے دو مسئلے عجیب بات ہے کہ شیعوں کے یہاں تما م ائمہ کی وفات کے لئے صرف دو ہی مسئلے ہیںکہ یا تو قتل ہوئے یا زہر دئیے گئے۔جن لوگوں کی شہادت ثابت کر سکے اُن کو تو شہید ٹھہرایا اور جن لوگوں کا شہید ہونا ثابت نہ کر سکے اُن کی نسبت