ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 306 of 566

ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 306

عجیب بات ہے کہ پیشاب خوب آتا ہے۔اس پر میں نے عرض کیا کہ حضرت! عملی طور پر اس حدیث کی سچائی سمجھ میں آ گئی ہے جس میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی بیمار کو کھلاتا پلاتا ہے۔پھر فرمایا۔عجیب بات ہے سوڈا واٹر پینے کو طبیعت چاہے۔وہ تین دن سے یہاں نہیں اور جو پانی جنجر وغیرہ یہاں ہے اس سے نفرت ہے۔ایک کشف اسی طرح پر کچھ باتیں ہو رہی تھیں کہ چند منٹ خاموش ہوئے اور پھر یکایک بولے۔ابھی میں نے دیکھا ہے کہ اسی مقام پر کسی پرند کا مزیدار شوربا کھایا ہے اور اس کی باریک باریک ہڈیاں پھینک دی ہیں۔یونہی آپ نے یہ کشف سنایا۔میں نے عرض کی کہ اس کو پورا کرنے کے لئے کسی پرند کے گوشت کا انتظام کیا جاوے۔یہ کہہ کر میں اٹھا تا کہ صاحبزادہ حضرت مرزا شریف احمد صاحب جو کبھی کبھی ہوائی بندوق سے شکار کھیلا کرتے ہیں انہیں عرض کروں کہ کوئی پرند شکار کریں۔میں جب ان کے پاس پہنچا تو معلوم ہوا کہ ٹھیک اسی وقت انہوں نے کچھ پرند شکار کئے ہیں۔وہ حضرت کی خدمت میں پیش کئے گئے اور حضرت بہت خوش ہوئے۔بیعت کے بعد فرمان ۳؍ فروری ۱۹۱۱ء کو بعض افغانوں نے جو یہاں کچھ عرصہ سے آئے ہوئے ہیں رخصت چاہی اور بیعت کی۔حضرت نے بعد بیعت فرمایا۔بری صحبتوں میں نہ بیٹھو، نماز سنوار کر پڑھو، درود شریف اور استغفار بہت پڑھا کرو۔نصیحت نامہ اور ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ ہم ایک نصیحت نامہ لکھ دیں گے۔تب رخصت کریں گے۔چنانچہ ۴؍ فروری ۱۹۱۱ء قبل دوپہر حضرت نے مندرجہ ذیل نصائح آپ نے ایڈیٹر الحکم کے قلم سے لکھوا