ارشادات نور (جلد دوم۔ بعد از خلافت) — Page 117
دہریہ سے بھی گرے ہوئے ہیں۔کیا دونوں پہلو بہ پہلو ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے دنیوی کاروبار کو ہی معیار کامیابی سمجھا ہے حالانکہ ان امور میں دہریہ بھی مشرک ہیں۔اصل لَا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہ کہنے والے اور بت پرست کا مقابلہ کرو۔نوح کی عمر پر یورپ و امریکہ نے بہت کچھ لکھا ہے کیونکہ اس کا ذکر توریت میں تھا۔ورنہ قرآن کریم میں تو عمر نوح کا تذکرہ ہی نہیں۔صرف لبث نوح کا اس قوم مشرک میںذکر ہے۔قبل رسالت و بعد طوفان کا ذکر ہی نہیں۔یورپ کے فلاسفروں نے کہا ہے حضرت نوح کی بقا کو مع ان کے خلفاء و جانشینوں اور بقا تعلیم کے ۹۵۰ لکھا ہے بلکہ زیادہ۔اور ابتدائی زمانہ میں بعض جانور اور درختوں کے قد و قامت و عمر میں بڑا تفاوت ہوا ہے۔خط میں گنجائش نہیں وَاِلاَّ تفصیل کرتا۔کثرت خطوط اور میری عدیم الفرصتی مجھے اس وقت تفصیل سے روکتی ہے۔۳۔معاصی میں بڑا ہی اختلاف ہے اور ان کے مدارج بے ریب مختلف ہیں۔ایک جانور کا زانی، مشت زن، بازاری عورت کا زانی، گھر میں حیض و نفاس کے دنوں کا زانی ، پڑوسی کی بی بی کا زانی، زانی بالجبر اور ماں بہن سے زانی، پھر معاصی میں شوخ، مرسلوں کے مقابل شوخ۔جناب من! ضرورہی سزا دہندہ جرائم کی تقسیم کرے اوران کے حدود و مراتب قائم کرے مثلاً گورنمنٹ بھی معاصی کے سزا کی ذمہ دار ہے اس نے تعزیرات اور سیاست اور فوجی سزائوں کے قواعد تجویز کر دئیے اور ان کی تقسیم کر دی۔گھر میں انسان اپنے متعلقین کی سزائیں اور جرائم تجویز کرتا ہے تو اسے تقسیم بھی کرنا پڑتا ہے۔مولیٰ کریم سزا دہندہ اس نے مدارج سزائوں اور معاصی کی بنا رکھی۔ہمیں اور آپ کو نہ خدائی ملی اور نہ حکومت ہم اس کا فکر کریں بیہودہ کام ہے۔(المؤمنون:۴) کامیاب مومن کا کام ہے۔(المائدۃ :۵۵)کے مصداق پر یہ گزارش ہے کہ لومۃ لائم میں آیا مرتدین کے متعلق حکم ہے یا عام؟ اگر مرتدین کے جنگ پر ارشاد ہے تو مالک بن نویرہ کے معاملہ میں اور خود ابوبکر کو ایسے جنگ کرنے میں شیعہ نے مالک کی مذمت اور تمام اہل الرائے نے ابوبکر کو ملامت کی