ارشادات نور (جلد اوّل۔ قبل از خلافت) — Page 73
ہے۔(۳) پھل کا پھل بھی ہے۔(۴) شربت کا کام بھی دیتا ہے۔(۵) اس کے پتے ہوا کے شدید سے شدید جھوکوں سے بھی نہیں گرتے ہیں۔(۶) پھر پتوں کے پنکھے چٹائیاںبنتی ہیں۔(۷) تنے کی رسیاں بنتی ہیں۔(۸) ریشوں سے تکیے بنتے ہیں۔(۹) لکڑی کام آتی ہے۔(۱۰) کھجور کی گٹھلی سے جانوروں کے لئے عمدہ غذا بنتی ہے۔(۱۱)شاخوں کے سرے کے درمیان کی گری مقوی ہوتی ہے۔غرض کھجور ایک ایسا درخت ہے کہ اس کا کوئی حصہ بھی ایسا نہیں جو مفید اور نفع رساں نہ ہو۔رسول اللہ ﷺ نے کھجور کے درخت کی مثال سے یہ بتلایا ہے کہ مسلمان کو بڑا ہی نفع رساں ہونا چاہئے اور ایسا ثابت قدم اور مستقل مزاج ہو کہ کوئی ابتلا اس پر اثر نہ کرسکے مگر مجھے یہ دیکھ کر سخت رنج ہوا کہ آج مسلمانوں کی یہ حالت نہیں رہی۔قتل اولاد کی وضاحت خشیت املاق کی وجہ سے اولاد کو قتل کرنا منع ہے۔لوگ کہتے ہیں کہ جان سے مار ڈالنا منع ہے مگر میرے نزدیک جو لوگ اپنی اولاد کو علوم دینیہ سے اس لئے محروم رکھتے ہیں کہ ان کے پاس روپیہ نہیں ہے وہ بھی قتل اولاد کرتے ہیں۔دنیا کے کام پر اس لئے لگا دیتے ہیں کہ کما کر ہمیں آرام پہنچا وے۔ناعاقبت اندیش اتنا نہیں سمجھتے کہ علوم دینیہ سے بے خبر رکھ کر ان کو ابدی جہنم کے لائق بنادیا اور ان کی نیکی کی قوتوں کو کچل ڈالا۔دوزخ ذریعہ اصلاح ہے دوزخ انسان کے لئے وارم باتھ ہے یہ انسان کی اصلاح کرتا ہے۔جیسے گرم حمام بعض بیماروں کے علاج اور اصلاح کا موجب ہوتے ہیں اور ایسا ہی بعض گرم دوائیں ایسا ہی دوزخ بھی ذریعہ اصلاح ہے۔میں نے قرآن کریم سے آتشک کے مریض کا علاج تجویز کیا ہے اور پھر مجھے اس میں کامیابی ہوئی۔ایسے مریض کے لئے میں شجر زقوم دودھ کی کابلی جو کے ساتھ گولیاں بنوا کردیں۔اور پھر جب پیاس لگتی تھی تو گرم گرم پانی پلاتا تھا۔آخر اس مریض کو بفضلہ تعالیٰ آرام ہوگیا اور تصدیق ہوگئی کہ دوزخ اصلاح ہی کا ذریعہ ہے۔