انقلابِ حقیقی

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 9 of 164

انقلابِ حقیقی — Page 9

۔انقلاب حقیقی میں مشورہ کر کے کام کرنا چاہئے۔حضرت علی رضی اللہ عنہ یہ سنتے تو فرماتے كَلِمَةُ الْحَقِ أُرِيدَ بِهَا بَاطِل ! بات تو تم سچی کہتے ہو مگر تمہاری غرض فتنہ و فساد ہے۔اسی طرح مصری صاحب نے مجھے انہی دنوں چٹھی لکھی کہ مجھے جلسہ سالانہ میں دو دن دو دو گھنٹے لیکچر کیلئے وقت دیا جائے اور اگر آپ نہ دیں گے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ نہیں چاہتے کہ سچ ظاہر ہو۔میں نے انہیں لکھا کہ اگر ہم آپ کو اجازت دے دیں تو پھر ہر مذہب والا ہمیں کہہ سکتا ہے کہ مجھے بھی دو دو گھنٹہ وقت دیا جائے اور اس طرح اگر ہم دو دو گھنٹے ہر مذہب والے لود دینے لگیں تو ہماری اپنی تقریروں کیلئے کونسا وقت باقی رہے اور اگر ہم نہ دیں تو وہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ تم سچ چھپانا چاہتے ہو۔آریہ کہیں گے تم نے ہمیں چونکہ وقت نہیں دیا اس لئے معلوم ہوا کہ تمہیں سچائی سے غرض نہیں، عیسائی کہیں گے کہ ہمیں چونکہ وقت نہیں ملا اس لئے معلوم ہوا کہ تمہیں صداقت معلوم کرنے کی کوئی تڑپ نہیں ،سکھ کہیں گے ہمیں چونکہ وقت نہیں دیا گیا اس لئے معلوم ہوا کہ احمدی سچ چُھپانا چاہتے ہیں۔پس چونکہ اس طرح ہر ایک کو وقت دے کر ہمارے لئے کوئی وقت نہیں بچتا اور یوں بھی یہ مطالبہ بالکل لغو ہے اس لئے میں نے انہیں لکھا کہ یہ طریق درست نہیں آپ الگ بے شک تقریریں کریں میں آپ کو نہیں روکتا۔باقی ہمارے جلسہ کے ایام میں میں نہیں کہہ سکتا کہ کسی اور جلسہ کے کرنے کی اجازت آپ کو حکومت کی طرف سے ملے یا نہ ملے کیونکہ ۱۹۳۴ء میں احرار کے جلسہ کے وقت ہمیں یہ نوٹس دیا گیا تھا کہ ہم ان کے جلسہ سے پانچ دن پہلے اور پانچ دن بعد کوئی جلسہ منعقد نہیں کر سکتے حالانکہ قادیان ہمارا مذہبی مرکز ہے اور ہم اس میں ہر وقت جلسہ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔میں نے اس کا حوالہ دیتے ہوئے انہیں لکھا کہ محکمہ کی اس معاملہ میں گورنمنٹ سے بحث ہو رہی ہے مگر انہوں نے اس کے یہ معنی نکال لئے کہ گویا انہیں ہماری ل الكامل في التاريخ لابن الاثير المجلد الثالث صفحه ۳۳۴ مطبوعہ بیروت ۱۹۶۵ء