انقلابِ حقیقی — Page 112
۔انقلاب حقیقی ك يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ اَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ ے یعنی اللہ تعالیٰ اُمرِ اسلامی کو پہلے تو زمین میں قائم کرے گا پھر وہ ایک ہزار سال کے عرصہ میں آسمان پر اُٹھ جائے گا۔اس آیت میں اسلام کے پہلے ظہور کا زمانہ بتایا گیا ہے جس میں سے ایک ہزار سال کا عرصہ معین کر دیا ہے اور پہلا عرصہ غیر معین رکھا ہے۔لیکن اسے حدیث رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے معین کر دیا ہے۔کیونکہ آپ فرماتے ہیں خَيْرُ الْقُرُونِ قَرْنِي ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُم ثُمَّ الْفَيْجُ الأَعْوَج کے یعنی بہترین صدی میری ہے پھر اس کے بعد کی صدی پھر اس کے بعد کی صدی پھر تباہی ہے۔تدبیر امر کا زمانہ اس سے معلوم ہوا کہ تدبیر امر کا زمانہ تین صدیاں ہیں اور اس کے بعد تباہی کا زمانہ ایک ہزار سال اور اس کے بعد پھر ترقی کا زمانہ۔گویا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے تیرہ سو سال بعد اسلام کا دوبارہ احیاء مقدر بنایا گیا تھا۔پس اس جگہ جو قُل لَّكُمْ مِّتِعَادُ يَوْمٍ کہا ہے تو اس سے اسی یوم کی طرف اشارہ ہے جس کا سورہ سجدہ میں ذکر ہے اور وہ ہزار سال تنزلِ اسلام کے ہیں جس کے بعد بتایا گیا ہے کہ پھر اسلام ترقی کرے گا اور ساری قوموں میں پھیل جائے گا کیونکہ وہ زمانہ تکمیل اشاعت اسلام کا زمانہ ہوگا آیت هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُوْلَهُ بِالْهُدَى وَدِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّيْنِ كُله سے بھی اسی طرف اشارہ کرتی ہے۔السجدة: 4 صلى الله بخاری کتاب فضائل اصحاب النبي علی باب فضائل اصحاب النبي صلى الله ا وَمَنْ صَحِب النَّبِيِّ علا الله (الخ) 112 الصف: ١٠