امام مہدی کا ظہور — Page 22
سفیانی کے گلے میں صلیب کا ہونا اور اس کا بگڑا ہوا عیسائی ہونا۔یہ پہلی علامت ہے جس کی ظہور پر اس توقیع کے مطابق امام مہدی کا ظا ہر ہونا ضروری ہے۔اس حدیث میں امام مہدی سے پہلے عیسائیوں کے خروج کو امام مہدی کے ظہور سے پہلے فوری علامت قرار دیا گیا ہے۔دوسری احادیث میں مسیح موعود امام موعود کا کام کر صلیب بیان کیا گیا ہے جب سے ظاہر ہے۔اس وقت صلیبی مذہب دنیا میں غلبہ پا چکا ہوگا یکہ صلیب کو توڑنے کی ضرورت اسی لئے ہوگی کہ صلیبی مذہب غالب آچکا ہوگا۔تیرھویں صدی کے آخر تک صلیبی مذہب دنیا میں غالب آچکا تھا۔پس امام مہدی کے ظہور کا زمانہ تیرھویں صدی کے آخر اور چودھویں صدی کے شروع میں متعین ہو جاتا ہے۔السفیانی کے متعلق شیعہ روایت میں یہ بھی آیا ہے : - " يَاتِي مِنَ الْمَغْرِبِ یعنی اس کا ظہور مغرب کی طرف سے ہوگا۔پس در اصل یورپی پادریوں کو ہی تمثیلی زبان میں شیعہ روایتوں میں السفیانی قرار دیا گیا ہے اور دوسری احادیث میں انہی کو دجال کا خروج قرار دیا گیا ہے۔دوسری علامت جس کا وقوع امام مہدی کی توقیع الصَّيْحَہ کا ظہور کے مطابق اس کے ظہور سے پہلے ضروری ہے۔وہ الصیحہ ہے۔یہ القیم وہ لڑائی ہے جو ہندوستان کی سرز مین میں مکالمہ میں لڑی گئی۔یہ وہ حادثہ فاجعہ ہے جس کا امام مہدی سے پہلے ظہور ہوا۔پس امام مہدی سے پہلے سفیانی کا خروج بھی شیعہ روایات کے مطابق ہو چکا ہے اور الصيحة کا ظہور ہی ہو چکا ہے۔