علم تعبیر الّرؤیا اور اس کے عجائبات — Page 38
حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے حقیق۔الرویا" کے آخر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اس نصیحت کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے :۔" جب تک کسی کو مکالمہ کا خاص درجہ حاصل نہ ہو اور وه خاص درجہ محدثیت و صدیقیت یا ماموریت و نبوت کا درجہ ہے اس وقت تک خطرہ ہے کہ ایسا شخص خوابوں اور الہاموں پر فخر کر کے عجب کی مرض میں گرفتار ہو جائے اور اس طرح بجائے ترقی کے الہام اسے اسفل السافلین میں گرانے کا موجب ہو جا دیں " رحقيقه الرؤيا طبع اول منه ) ۲۸ اپریل انشاء کا ذکر ہے کہ ایک نوجوان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے کچھ رویا اور الہامات بنائے جب وہ سنا چکا تو حضور نے فرمایا :- میں تمہیں نصیحت کے طور پر کہتا ہوں اسے خوب یاد رکھو کہ ان خوابوں اور الہامات پر ہی نہ رہو بلکہ اعمال صالحہ میں لگے رہو۔بہت سے الہامات اور خواب سنیر و پھل کی طرح ہوتے ہیں جو کچھ دنوں کے بعد گر جاتے ہیں اور پھر کچھ باقی نہیں رہتا ہے۔۔۔۔۔۔بلعم کتنا بڑا آدمی تھا مستجاب الدعوات تھا۔اس کو بھی الہام ہوتا تھا لیکن انجام کیسا