اِعجاز المسیح — Page 69
اعجاز المسيح ۶۹ اردو تر جمه الرحمن و الرحيم في هذه الآية اور الرَّحِیم ہیں۔پس ان میں سے ہر ایک نام المباركة۔فإن كل واحد منها اس کی خصوصیات اور مخفی کیفیات پر دلالت کرتا يدل على خصائصه وهويته المكتومة۔والله اسم للذات ہے۔اللہ اس ذات الہی کا نام ہے جو تمام کمالات الإلهية الجامعة لجميع أنواع کی جامع ہے اور رحمان اور رحیم دونوں دلالت الكـمـال والـرحمن والرحيم کرتے ہیں کہ یہ دونوں صفتیں متحقق ہیں اس نام يدلان على تحقق هاتين الصفتين کے لئے جو ہر قسم کے جمال اور جلال کا جامع لهذا الاسم المستجمع لكل نوع الجمال والجلال۔ثم للرحمن ہے۔پھر الر حمن کے معنی جو خاص طور پر اسی معنى خاص يختص به ولا يوجد سے مخصوص ہیں اور الرحیم میں نہیں پائے جاتے في الرحيم۔وهو أنه مُفيضٌ اور وہ یہ ہیں کہ خدائے کریم کے اذن سے صفت رحمن لوجود الإنسان وغيره من الــحـيـوانـات بإذن الله الكريم۔وجو دانسان اور دیگر حیوانات کو قدیم زمانہ سے بحسب ما اقتضى الحكم الإلهية | حكمت الہیہ کے اقتضاء اور جو ہر قابل کی قابلیت کے من القديم۔وبحسب تحمل مطابق فیضان پہنچارہا ہے نہ کہ مساوی تقسیم کے طور (۹۱) القوابل لا بحسب تسوية پر۔اس صفت رحمانیت میں کسی انسانی یا حیوانی التقسيم وليس في هذه الصفة قومی کے کسب عمل اور کوشش کا کوئی دخل نہیں۔الرحمانية دخل كسب وعمل وسعـي مـن الـقـوى الإنسانية بلكه يد محض اللہ کا احسان ہے جس سے پہلے عمل أو الحيوانية۔بل هى مِنة من الله کرنے والے کا عمل موجود نہیں۔یہ اُس کی جناب خاصة ما سبقها عمل عامل سے اُس کی رحمتِ عامہ ہے کسی ناقص یا کامل شخص ورحمته من لدنه عامة ما مسها أثـر سـعـي مـن ناقص أو كامل۔کی کسی سعی کا نتیجہ نہیں۔حاصل کلام یہ کہ صفت فالحاصل أن فيضان الصفة رحمانیت کا فیضان کسی عمل کا نتیجہ اور کسی