اِعجاز المسیح — Page 124
اعجاز المسيح ۱۲۴ اردو تر جمه في آخر الزمان مكتوبا في وعدہ کیا گیا تھا جو سورۃ فاتحہ اور قرآن میں مکتوب الفاتحة وفى القرآن ثم في هذه ہے۔پھر اس آیت میں یہ بھی اشارہ ہے کہ کسی الآية إشارة إلى أن العبد لا يمكنه بندے کی عبادت کی بجا آوری حضرت احدیت الإتيان بالعبودية۔إلَّا بتوفيق من سے توفیق کے بغیر ممکن ہی نہیں۔عبادت کی فروعات الحضرة الأحدية۔ومن فروع میں سے یہ ہے کہ تو اس شخص سے جو تجھ سے دشمنی العبادة أن تحب من يُعاديك۔رکھتا ہے محبت کرے جس طرح تو اپنے آپ سے كما تحب نفسك وبنيك۔اور اپنے بیٹوں سے محبت کرتا ہے۔اور یہ کہ تو لوگوں وأن تكون مقيلا للعثرات کی لغزشوں کو معاف کرنے والا اور اُن کی خطاؤں متجاوزا عن الهفوات۔وتعيش سے درگزر کرنے والا ہو اور پاک صاف قلب سلیم تقيَّا نـقـيــا ســليم القلب طيب اور پاک باطن اور وفا شعاری اور صدق وصفا کے ساتھ الذات۔ووفيًا صفيًّا مُنزّها عن ۱۶۵ ذمائم العادات۔وأن تكون اور تمام مذموم عادات سے منزہ زندگی بسر کرے۔اور تو بغیر تکلفات و تصنع کے بعض وجودًا نافعًا لخلق الله بخاصية نباتات کی طرح فطرتی خاصیت کے ساتھ اللہ کی الفطرة كبعض النباتات۔من غير مخلوق کے لئے نفع رساں وجود بن جائے۔اور یہ التكلفات والتصنّعات۔وأن لا کہ تو تکبر سے اپنے بھائی کو دکھ نہ دے۔اور نہ ہی تؤذى اخيك بكبر منك ولا کسی بات سے اُسے مجروح کرے بلکہ تجھ پر یہ تجرحه بكلمة من الكلمات۔بل عليك أن تجيب الأخ لازم ہے کہ اپنے ناراض بھائی کی بات کا جواب المغضب بتواضع ولا تحقره في تواضع سے دے اور تخاطب میں اُس کی تحقیر نہ المخاطبات۔وتموت قبل أن کرے اور مرنے سے پہلے مرجائے اور اپنے تئیں تموت وتحسب نفسك من مردوں میں شمار کرے۔اور جو بھی تیرے پاس الأموات۔وتعظم كلّ من جاءك آئے اُس کی عزت کرے خواہ وہ چیتھڑوں میں ولو جاء ك في الأطمار لا فی آئے اور لباس فاخرہ میں نہ ہو اور تو ہر ایک کو