اِعجاز المسیح — Page 106
اعجاز المسيح 1+4 اردو تر جمه وحاصل الكلام ان الرحيمية حاصل کلام یہ کہ رحیمیت کا تعلق ان فیوض تتعلق بـفـيـوض تترتب على سے ہے جو اعمال پر مترتب ہوتے ہیں اور یہ الأعمال۔ويختص بالمؤمنين من دون الكافرين وأهل کافروں اور گمراہوں کو چھوڑ کر صرف مؤمنوں سے الضلال۔ثم بعد الرحيمية فيض خاص ہے۔پھر رحیمیت کے بعد ایک اور فیض آخر وهـو فـيـض الجزاء الا تم بھی ہے جو جزاء کامل اور مکافات اور نیک لوگوں کو ۱۳۸ والمكافات۔وإيصال الصالحين إلى نتيجة الصالحات اُن کی نیکیوں اور اعمال حسنہ کے نتیجہ تک پہنچانے کا والحسنات۔وإليه أشار فیض ہے۔اور اس کی طرف خدائے عـــزوجــل عزّ راسـمــــــه بــقــولــــــه ،، نے اپنے قول مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ میں اشارہ ”مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ۔و إنه آخر الفيوض من رب العالمین فرمایا ہے۔اور یہ رَبُّ الْعَلَمِینَ کی طرف سے وما ذكر فيض بعدہ فی کتاب آخری فیض ہے۔اس کے بعد أَعْلَمُ العالمین اللہ الله أعلم العالمين۔والفرق في کی کتاب میں کسی اور فیض کا ذکر نہیں کیا گیا۔اس هذا الفيض وفيض الرحيمية۔أن الرحيمية تبلغ السالك إلى فيض اور رحیمیت کے فیض میں یہ فرق ہے کہ مقام هو وسيلة النعمة۔وأما رحيمیت ایک سالک کو اُس مقام تک پہنچاتی ہے فيض المالكية بالمجازات۔فهو جو وسیلہ نعمت ہے باقی رہا جزا سزا سے متعلق صفت يُبلغ السالك إلى نفس النعمة وإلى منتهى الثمرات وغاية مالكيت كا فیض ، سو وہ ایک سالک کو نعمت کی حقیقت، المرادات۔رادات۔وأقـــصـــــى اخروى ثمرات ، مرادوں کی انتہا اور مقاصد کی آخری ١٣٩ المقصودات۔فلا خفاء أن هذا حد تک پہنچاتا ہے۔پس ظاہر ہے کہ یہ فیض حضرت الفيض هو آخر الفيوض من الحضرة الأحدية۔وللنشأة احدیت کی طرف سے آخری فیض ہے اور انسانی لے جزا سزا کے دن کا مالک ہے۔(الفاتحة : ۴)