ابن مریم

by Other Authors

Page 207 of 270

ابن مریم — Page 207

جوش میں آکر اور اپنی امت کو ہلاکت کا مفسدہ پرداز پا کر زمین پر اپنا قائم مقام اور شبیہ چاہا جو اس کا ایسا ہم طبع ہو کہ گویا وہی ہو۔سو اس کو خدائے تعالیٰ نے وعدہ کے موافق ایک شبیہہ عطا کی اور اس میں مسیح کی ہمت اور سیرت اور روحانیت نازل ہوئی اور اس میں اور مسیح میں بشدت اتصال کیا گیا۔گویا وہ ایک ہی جوہر کے دو ٹکڑے بنائے گئے اور مسیح کی توجہات نے اس کے دل کو اپنا قرار گاہ بنایا اور اس میں ہو کر اپنا تقاضا پورا کرنا چاہا۔پس ان معنوں سے اس کا وجود مسیح کا وجود ٹھہرا اور مسیح کے پر جوش ارادات اس میں نازل ہوئے۔جن کا نزول الہامی استعارات میں مسیح کا نزول قرار دیا گیا۔یاد رہے کہ یہ ایک عرفانی بھید ہے کہ بعض گذشتہ کاملوں کا ان بعض پر جو زمین پر زندہ موجود ہوں عکس توجہ پڑ کر اور اتحادِ خیالات ہو کر ایسا تعلق ہو جاتا ہے کہ وہ ان کے ظہور کو اپنا ظہور سمجھ لیتے ہیں اور ان کے ارادات جیسے آسمان پر ان کے دل میں پیدا ہوتے ہیں ویسا ہی باز نہ تعالیٰ اس کے دل میں جو زمین پر ہے پیدا ہو جاتے ہیں اور ایسی روح جس کی حقیقت کو اس آدمی سے جو زمین پر ہے متحد کیا جاتا ہے ، ایک ایسا ملکہ رکھتی ہے کہ جب چاہے پورے طور پر اپنے ارادات اس میں ڈالتی رہے اور ان ارادات کو خدا تعالیٰ اس دل سے اس دل میں رکھ دیتا ہے۔غرض یہ سنت اللہ ہے کہ کبھی گذشتہ انبیاء و اولیاء اس طور سے نزول فرماتے ہیں اور ایلیاء نبی نے بیجی نبی ہو کر اسی طور سے نزول کیا تھا۔سو مسیح کے نزول کی سچی حقیقت یہی ہے جو اس عاجز پر ظاہر کی گئی۔) آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵ صفحه ۲۵۳ تا ۲۵۶)