ابن مریم

by Other Authors

Page 119 of 270

ابن مریم — Page 119

گذار اور وفادار رہے اور اس کے قانون کے پابند تھے۔حکومت کے خلاف کسی قسم کی بغاوت یا قانون شکنی کی اناجیل اور مسیحی تاریخ میں کوئی ایک بھی مثال نہیں ملتی۔آپ نے لوگوں کو یہ ہدایت فرمائی تھی کہ قیصر کو اس کا جزیہ دو " متی ۲۲ ۰ ۲۱ ، لوقا ۲۰ ۲۵۰) حضرت عیسی علیہ السلام کے اس پر امن طرز عمل کے ضمن میں مولانا مودودی صاحب کا تبصرہ یہ ہے کہ اگر ابتداء ہی میں حکومت سے مقابلہ شروع ہو جاتا تو اصل اصلاحی کام بھی نہ ہوتا اور اس کے انجام پائے بغیر حکومت کے مقابلہ میں ہی ناکامی ہوتی۔اسی لئے انہوں نے حکومت کے ساتھ تصادم کرنے سے پہلو تہی کی۔re الجهاد في الاسلام - طبع دوم - صفحہ ۳۶۶) مولانا مودودی صاحب نے یہاں یہ تو بیان کر دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے حکومت وقت سے تصادم اختیار نہیں کیا لیکن اپنے اس بیان میں انہوں نے یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ گویا حضرت عیسی علیہ السلام حکومت وقت سے لڑنا چاہتے تھے اور میدان کارزار کھولنا چاہتے تھے لیکن چونکہ کمزور تھے اس لئے مصلحت خویشی کا تقاضہ تھا کہ حکومت وقت سے تصادم نہ کیا جائے چنانچہ انہوں نے تصادم سے گریز کیا۔مولانا مودودی صاحب کے اس تبصرہ سے کوئی اہل فہم موافقت نہیں کر سکتا کیونکہ اصل حقیقت یہ تھی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں سلطنت رومیہ کی طرف سے کوئی مذہبی سختی نہیں تھی اور نہ وہ تلوار کے ذریعہ اپنے مذہب کو پھیلاتے تھے بلکہ یونانی فلسفہ کے پھیلنے کی وجہ سے لوگ دہرتیت کی طرف مائل تھے۔ایسے