ابنِ سلطانُ القلم

by Other Authors

Page 66 of 298

ابنِ سلطانُ القلم — Page 66

ابن سلطان القلم ~ 66 ~ ہم تیرے لیے رسوائی والی کوئی بات باقی نہ چھوڑیں گے: حضرت مرزا سلطان احمد صاحب ۲۵ دسمبر ۱۹۳۰ء کو بیعت سے شرفیاب ہوئے اور ایک دن بعد ۲۶ دسمبر کو جلسہ سالانہ تھا جس کے افتتاحی خطاب میں اختتامی دعا سے قبل حضرت مصلح موعود نے خصوصی طور پر اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ” دعا سے پہلے میں ایک اور بات بیان کرنا چاہتا ہوں۔یہ اجتماع کا موقع ہے اور اس پر اس بات کا بیان کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق خدا تعالیٰ کا الہام ہے لَا نُبْقِى لَكَ مِنَ الْمُخْزِيَاتِ ذِكْرًا کہ ہم تیرے لیے رسوائی والی کوئی بات باقی نہ چھوڑیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر مخالفین کی طرف سے ایک بہت بڑا اعتراض یہ کیا جاتا تھا کہ آپ کا بیٹا آپ کے سلسلے میں شامل نہیں۔مخالف کہتے کہ اگر مرزا صاحب سچے ہوتے تو ان کا اپنا بیٹا کیوں نہ انھیں مانتا۔اگر چہ یہ کوئی اعتراض نہیں جس سے حضرت مسیح موعود کی صداقت پر حرف آسکتا۔حضرت نوح علیہ السلام کے بیٹے نے بھی ان کو نہ مانا تھا۔اس سے حضرت نوح علیہ السلام کی صداقت باطل نہیں قرار دی جاسکتی۔پس مخالفین کا یہ اعتراض محض جہالت اور نادانی کی وجہ سے تھا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے بھی دور کر دیا اور ایسے لوگوں کا منہ بند کر دیا۔چنانچہ کل مرزا سلطان احمد صاحب میری بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں داخل ہو گئے اور اس طرح بھی دشمن کا منہ بند ہو گیا۔اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ حضرت مسیح موعود