ابنِ سلطانُ القلم — Page 56
ابن سلطان القلم ~ 56 ~ پھر تائی صاحبہ نے خود بیعت کر لی تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا، اس وقت وہ جھاڑو دے رہی تھیں۔میں نے از راہ مذاق اُنھی کے الفاظ میں اُنھیں کہا کہ تائی! اب آپ کو کیا وا وگ گئی ہے۔جس پر تائی صاحبہ نے کہا کہ عزیز احمد ! بڑوں سے یوں باتیں نہیں کیا کرتے ، بُری بات ہے۔پھر میں نے ان کو کہا تائی آپ کو بھی بیت لگ گئے ہیں۔اس پر وہ میرا مذاق سمجھیں اور فرمانے لگیں کہ عزیز احمد ! بیت تو ہر ایک کو لگ جانے ہیں۔“ 166 تائی صاحبہ نے جو یہ فرمایا کہ بیت تو ہر ایک کو لگ جانے ہیں، اس میں غالباً اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب بھی بالآخر بیعت سے مشرف ہو جائیں گے۔حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کے بارہ میں بیان کرتے ہیں: ” در حقیقت آپ کی روح احمدیت قبول کیے ہوئے تھی۔اس بات سے بھی ظاہر ہے کہ جب آپ کے بیٹے حضرت مرزا عزیز احمد صاحب نے ۱۹۰۶ء یا ۱۹۰۷ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیعت کی تو آپ کی تائی صاحبہ نے طنزًا آپ سے کہا کہ تیرا بیٹا بھی ایسا ویسا ہو گیا ہے تو اس پر آپ نے برجستہ یہ جواب دیا کہ ”اچھا ہوا، نماز تو پڑھا کرے گا۔،، ا روز نامه الفضل ربوه ۱۹ مارچ ۱۹۷۳ء (مکرم چوہدری سعید احمد صاحب عالمگیر افسر خزانہ صدر انجمن احمدیہ نے حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب کی زندگی کے بہت سے واقعات لکھ کر ان سے تصحیح کروائی۔یہ واقعات الفضل میں شائع ہوئے۔ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے۔) ۲ الفضل اار دسمبر ۱۹۴۰ء