ابنِ سلطانُ القلم — Page 216
ابن سلطان القلم ~ 216 - اس کتاب میں اخلاق کے ہر شعبہ پر اصولی رنگ میں بحث کی گئی ہے۔اگر چہ کہیں کہیں فروعی رنگ میں بھی جزوی اخلاق کا ذکر آگیا ہے۔کتاب میں۔اصولاً یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ سب اخلاق کا ماخذ اور مرجع کیا کچھ ہے اور ان کی ضرورت کہاں تک ہے اور ان میں کن کن وجوہ سے ترقی اور تنزل ہوتا رہتا ہے۔اخیر کتاب میں محبت، دیانت، عدالت، صداقت اور شجاعت پر نمبردار بحث کی گئی ہے۔نیز اس کتاب میں حکماء قدیم و جدید کے خیالات و آراء اخلاق کے محاسن و نقائص ہر باب میں پیش کیے ہیں۔علاوہ ازیں اس میں بتایا گیا ہے کہ اخلاق کی تکمیل اسی صورت میں ہو سکتی ہے کہ جب بالخصوص شخصیت، قومیت، سوسائٹی، قدرت اور حکومتِ وقت کے فرائض کا تحفظ مد نظر رہے۔اگر شخصیت کامل ہے تو اخلاق بھی کامل ہیں اور اگر شخصیت کامل نہیں تو اخلاق بھی کامل نہیں۔شخصیت کے بعد قوم اور سوسائٹی کی نوبت آتی ہے۔اگر کوئی قوم یا سوسائٹی عام طور پر بُری حالت میں ہو اور اس کے چند افراد مہذب بھی ہوں، پھر بھی اس قوم یا سوسائٹی کو خلیق نہیں کہا جا سکتا۔آپ نے یہ بھی بیان کیا ہے ہندوستانیوں میں ابھی بحیثیت قوم وہ اخلاق پیدا نہیں ہوئے، جو حاکم قوموں کے لیے ضروری ہیں، اسی لیے قدرت نے انگریز قوم کا حکومت کے لیے انتخاب کیا ہے۔کتاب کے سر ورق پر کتاب کا مختصر تعارف یوں درج ہے: "علم الاخلاق کی ایک حکیمانہ تالیف، جس میں واقعات کی بنا پر زور دار فلسفی دلائل سے انسانی زندگی کی