ابنِ سلطانُ القلم — Page 170
ابن سلطان القلم ~ 170 ~ ہر متاع که خریدیم به اوقات عزیز بود اگر یوسف مصری نه خریدن به بودا اس کا باعث کیا تھا کہ ان مضامین نے دل و دماغ پر اثر کیا اور جذب مضامین کی طاقت خود بخود پیدا ہو گئی تھی؟ محض تاثیر۔میری رائے میں سلسلہ تصنیف اور تالیف کے واسطے کسی بڑے مصالحے کی ضرورت نہیں۔صرف چند مؤثر جاذب فقرات کی ضرورت ہے۔(۴) جو کتابیں حقیقی واقعات اور صادق امور پر لکھی گئی ہیں یا جن میں اخلاقی رنگ یا فلسفیانہ طرز میں بحث کی گئی ہے، ان کے لفظ لفظ نے میری زندگی اور میرے ضمیر پر خاص اثر کیا ہے۔کتاب پر ہی موقوف نہیں ایسے مؤثر فقرات نے بھی میری زندگی اور میرے دل و دماغ پر اثر کیا ہے۔پڑھ کر ہی نہیں بلکہ سن کر بھی بہت متاثر ہوا ہوں۔خوش مضمون، خوش صدا کا مجھ پر ایک خاص اثر ہوتا ہے اور ان حالات میں میرے دل میں جدت مضامین کا تموج ہوتا ہے۔اگر کوئی شخص بانسری خوش الحانی سے بجا رہا ہو اور ارد گرد کوئی شور و شغب نہ ہو تو میرے دل و دماغ میں مضامین جدید کا ایک خاص تموج پیدا ہوتا ہے اور لکھنے میں کوئی تکلیف نہیں ہوتی۔موسم کی خوش " ا ترجمہ : جو کچھ بھی ہم نے اس باغ میں دیکھا اس کا نہ دیکھنا بہتر تھا۔ہر تازہ پھول جس کو ہم نے چنا اس کا نہ چننا اچھا تھا۔جس جگہ بھی ہمیں آرام کی ضرورت پڑی وہاں کچھ آرام کر لینے کے بعد منزل پر پہنچنا بہتر تھا۔ہر متاع جو ہم نے اوقات عزیز کے بدلے خریدی اگر وہ یوسف مصری بھی ہوتا تو اس کا نہ خرید نا بہتر تھا۔