ابنِ سلطانُ القلم — Page 148
ابن سلطان القلم ~ 148 ~ قادیان میں کن لوگوں کی ملاقات تھی؟ مرزا صاحب نے کہا کہ ملا وامل اور شرم پت ہی زیادہ آتے جاتے تھے کسی اور سے ایسا راہ رسم نہ تھا۔(19)۔بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے نے کہ بیان کیا ان سے مرزا سلطان احمد صاحب نے کہ ایک دفعہ مسٹر میکانکی ڈپٹی کمشنر گورداسپور قادیان دورہ پر آئے۔راستہ میں انھوں نے دادا صاحب سے کہا کہ آپ کے خیال میں سکھ حکومت اچھی تھی یا انگریزی حکومت اچھی ہے؟ دادا صاحب نے کہا کہ گاؤں چل کر جواب دوں گا۔جب قادیان پہنچے تو دادا صاحب نے اپنے اور اپنے بھائیوں کے مکانات دکھا کر کہا کہ یہ سکھوں کے وقت کے بنے ہوئے ہیں مجھے امید نہیں کہ آپ کے وقت میں میرے بیٹے ان کی مرمت بھی کر سکیں۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ سکھوں کی حکومت قدیم شاہی رنگ کے طرز پر تھی اب اور رنگ ہے اور ہر رنگ اپنی خوبیاں رکھتا ہے۔(۲۰) بیان کیا مجھ سے مولوی رحیم بخش صاحب ایم اے نے کہ بیان کیا ان سے مرزا سلطان احمد صاحب نے کہ میں نے تحصیلداری کا امتحان ۱۸۸۴ء میں دیا تھا اس وقت میں نے والد صاحب کو دعا کے لیے ایک رقعہ لکھا تو انھوں نے رقعہ پھینک دیا اور فرمایا “ ہمیشہ دنیا داری ہی کے طالب ہوتے ہیں” جو آدمی رقعہ لے کر گیا تھا اس نے آکر مجھے یہ واقعہ بتایا۔اس کے بعد والد