ابنِ سلطانُ القلم — Page 126
ابن سلطان القلم ~ 126 " ~ پھر ایک آواز دینے والے نے آواز دی کہ ایک شخص، جس کا نام سلطان بیگ ہے، جان کندن میں ہے۔میں نے کہا کہ عنقریب وہ مر جائے گا، کیونکہ مجھے خواب میں دکھلایا گیا ہے کہ اس کی موت کے دن صلح ہو گی۔“ تشریح: سلطان بیگ کے نام سے ظاہر ہے کہ جس شخص کا ذکر ہے وہ قوم کا مغل ہے۔پھر یہ وہ سلطان بیگ ہے جو خواب آنے کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مخالف ہے، اس لیے صلح کا محتاج ہے۔جان کندن میں ہونے سے مراد وہ لمبی بیماری ہے جس میں حضرت مرزا سلطان احمد صاحب بہت مدت تک مبتلا رہے اور بالآخر چلنے پھرنے کے بھی ناقابل ہوگئے، یہاں تک کہ حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کو آپ کی بیعت لینے کے لیے آپ کے پاس جانا پڑا۔موت کے دن سے مراد موت کا سال ہے، کیونکہ مذہبی اصطلاح میں کبھی دن سال کے برابر ہوتا ہے۔اس جگہ دن ایک سال کے برابر ہے اور خواب کی یہ تعبیر ہوئی کہ حضرت میرزا سلطان احمد صاحب کی موت کے سال صلح ہو گی اور وقوع میں بھی یہی آیا ہے کہ آپ کی صلح یعنی بیعت کا دن یعنی سال ابھی گزرنے نہیں پایا تھا کہ آپ کا وصال ہو گیا۔پھر شیخ محمد حسین بٹالوی کے ذکر میں آپ کا ذکر اس لیے آیا کہ آپ کو شیخ صاحب مذکور سے مخالفت مسیح موعود علیہ السلام اور پھر رجوع یا صلح میں ایک گونہ مناسبت تھی۔عزیز کے باپ کے سر پر سلطان کا لفظ : پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: