ابنِ سلطانُ القلم — Page 116
ابن سلطان القلم ~ 116 ~ آل انڈیا مسلم کا نفرنس دہلی میں شرکت: ہندوستان کے مسلمان، ہندو اور دیگر قومیں انگریزوں سے آزادی کی جد وجہد میں مصروف تھیں۔کانگریس کی منعقدہ آل پارٹیز کنوینشن میں مسلمانوں کے مطالبات کو پامال کر دیا گیا، جس کی وجہ سے ہندو مسلم اتحاد نہ ہو سکا۔نتیجہ مسلمانوں کی تمام مشہور مذہبی و سیاسی جماعتوں کے نمائندے دہلی میں جمع ہوئے اور ۳۱ دسمبر ۱۹۲۸ء سے ۲ جنوری ۱۹۲۹ء تک آل انڈیا مسلم کا نفرنس کا انعقاد کیا، جس میں مختلف جماعتوں کے نمائندے اور سر بر آوردہ ارکان شامل ہوئے۔ان سر بر آوردہ لوگوں میں جناب مرزا سلطان احمد صاحب بھی شامل تھے۔' خاندان کے بارہ میں حکام کے خطوط وسندات : حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کے آباؤ اجداد ایک بہت بڑی ریاست کے خود مختار مالک تھے اور ان کے مغلیہ سلطنت کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے، لہذا ان کو مغلیہ سلطنت سے گاہے گاہے خوشنودی کی اسناد اور تعریفی خطوط محفوظ موصول ہوتے رہتے تھے، جو صاحبزادہ مرزا سلطان احمد صاحب کے پاس تھے اور انھوں نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کو دیے جو سیرت المہدی میں درج ہو کر اب جماعتی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔" ا تاریخ احمدیت جلد ۵ صفحہ ۸۳ ۱۱۷۱۔جدید ایڈیشن ۲ سیرت المہدی ، جلد اول روایت نمبر ۷۲۱