ابن رشد — Page vi
پیش لفظ میر لیے یہ بات نہایت فخر و انبساط کا باعث ہے کہ قریب پچاس سال بعد مرکز فروغ سائنس علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے زیر اہتمام عالم اسلام کی قد آور شخصیت ابن رشد القرطبی کی زندگی اور کارناموں پر کتاب شائع کی جارہی ہے۔محمد ابن رشد اسلامی اسپین کے سب سے عظیم فقیہ، فلاسفر، طبیب، ماہر فلکیات، قانون گو، قاضی ، مصنف اور ارسطو کی کتابوں کے شرح نگار تھے۔اسلامی دنیا میں آپ کی شہرت بطور فقیہ اور یورپ میں بطور فلاسفر کے ہے۔بارہویں صدی سے لے کر سولہویں صدی تک یورپ میں آپ کا طوطی بولتا رہا۔آپ کے سیاسی ، سماجی ، علمی و فلسفیانہ نظریات سے اہلِ یہود اور اہلِ نصاری نے بہت استفادہ کیا جس سے نشاۃ ثانیہ ممکن ہوئی۔یورپ کی علمی ، سائنسی اور مادی ترقی دراصل آپ کی ارسطو کی شرح کردہ کتابوں کی رہین منت ہے۔ابن رشد نہ صرف عالم اسلام بلکہ یورپ کے بھی قد آور فلاسفر تھے کیونکہ انہوں نے ارسطو جیسے عالم بے بدل کو یورپ میں روشناس کرایا تھا۔عالم اسلام میں ان کی قدر کی وجہ ان کا رتبہ جہاد ہے۔جس رنگ میں انہوں نے عقل اور مذہب کے درمیان مطابقت پیدا کرنے کی کامیاب سعی کی اس کے باعث ان کو مجتہد اعظم کا لقب بہت زیب دیتا ہے۔انگریزی زبان میں ابن رشد کی سواغ پر کتابیں محدود چند ہیں جبکہ فرانسیسی زبان میں ارنسٹ رینان کی کتاب کے 1852ء میں منصہ شہود پر آنے کے بعد بہت سارا لٹریچر نمودار ہوا۔اردو زبان میں بھی آپ کی سوانح پر کتابوں کو ہاتھ کی انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔اس کتاب میں آپ کی سوانح کو سات حصوں میں تقسیم کر کے آپ کی زندگی کے چھپے ہوئے گوشوں کو حتی الامکان سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔کتاب میں تمام انگریزی اقتباسات کا اردو میں ترجمہ میں نے کیا