ابن رشد

by Other Authors

Page 134 of 161

ابن رشد — Page 134

کوئیز یو نیورسٹی کے کیٹیلاگ میں مائیکر فلم (884:5 EEB) پر موجود اور یونان کے ایک لائق ترین میٹرو ڈورس (Metrodorus) کے درمیان خط و کتابت کا علم ہونے پر خوشی کی انتہا نہ رہی۔دونوں میں یہ خط و کتابت 1149-1150ء میں ہوئی تھی۔اس خط و کتابت کو لندن کی ٹی سول کمپنی نے 1695ء میں کتابی شکل میں لندن سے شائع کیا تھا اور یونیورسٹی مائیکر د فلم (این آر بر مشی گن ، امریکہ ) نے اس کو 1976ء میں مائیکر و فلم پر محفوظ کیا تھا۔میں صرف اس کا پہلا صفحہ پڑھ سکا جس کا عنوان ہے: Being a Transcript of several letters from Averroes, an Arabian Philosopher at Corduba in Spain, to Metrodorus, a Young Grecian Nobleman۔student at Athens, in the Years 1149 and 1150۔مانگر فلم کی فوٹو کاپی بھی حاصل کی مگر پڑھنے کے قابل نہ تھی ، کاش میں اس مکمل خط و کتابت کو پڑھ سکتا جو دونوں کے درمیان طب کے مسائل پر ہوئی تھی۔میں نے یو نیورسٹی مائیکر فلم کوخط لکھا کہ اگر ان کے پاس اچھی کاپی ہو تو مجھے اس کی فوٹو کاپیاں بھجوائیں، اگر کسی نے میری درخواست کو درخور اعتنانہ سمجھا۔کاش میرے بعد کوئی اور اس خط و کتابت کو انگریزی سے اردو میں ترجمہ کر کے شائع کر سکے۔اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو (UNESCO) کے ڈائریکٹر جنرل ایف میر ( F۔Mayor) اور ہالینڈ کے سیکرٹری آف ایجو کیشن نے 25 جنوری 1997ء کو ایوروس فاؤنڈیشن ٹریننگ سینٹر کا افتتاح ایمسٹرڈم میں کیا۔ایور دس سینٹر کو بچوں کے والدین ، صوبائی حکومت اور لوکل گورنمنٹ آپس میں مل کر چلائیں گے۔1978ء میں الجزائر میں پر منعقدہ عالمی تقریب کے موقعے پر شام (Syria) نے اس کی یاد میں ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا تھا۔یہ ڈاک ٹکٹ ابن سینا اکیڈمی علی گڑھ میں موجود ہے۔مزید براں فارابی، البیرونی، ابن الہیشم، رازی اور دوسرے مسلم سائنس دانوں کے علاوہ ابن سینا پر جاری کردہ 35 سے زیادہ ڈاک ٹکٹ ابن سینا اکیڈمی کی زینت ہیں۔جون 1998 ء میں فرانس کی سوربون یونیورسٹی (Sorbonne University ) میں کی آٹھویں صد سالہ برسی پورے جوش و خروش کے ساتھ منائی گئی۔اس موقعے پر مصر کے فلم ڈائریکٹر یوسف شماہین کی فلم فیٹ (Fate) دکھائی گئی۔اکتوبر 1998ء میں قرطبہ میں بھی کی 800 سالہ برسی بڑے اہتمام کے ساتھ منائی گئی۔صوبہ اندلس کی وزارت فرہنگ و ثقافت کے مشیر نے اس موقعے پر کہا کہ موجودہ زمانے میں اگر کے رہے کے انسان پیدا ہوتے تو ہم ہر قسم کے تشدد اور انتہا پسندی کا مقابلہ بخوبی کر سکتے تھے۔اس موقعے پر کی زندگی پر تین کتابیں شائع کی گئیں۔ایک کتاب میں کی کتابوں سے اقتباسات پیش کئے گئے ہیں۔یہ کتاب 134