مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 85
AV حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) کو ان سے بہت محبت تھی اور ان کے کاموں میں آپ دلچسپی لیتے تھے۔اسی طرح حضرت میر صاحب کا بھی آپ کے ساتھ عاشقانہ تعلق تھا۔بھائیوں میں سے حضرت اماں جان کو میر محمد اسمعیل صاحب سے زیادہ محبت تھی۔نہایت ذہین اور نہ کی تھے۔حضرت مسیح موعود ر آپ پر سلامتی ہوا نے جب خطبہ الہامیہ دیا۔تو آپ کے اس ارشاد کو سن کر کہ لوگ اسے یاد کریں۔انہوں نے چند دنوں میں ہی سارا خطبہ یاد کر کے حضرت مسیح موعود کو سُنا دیا تھا۔یا وجود نہایت کامیاب ڈاکٹر ہونے کے اور بہت بڑی کمائی کے قابل ہونے کے زیادہ تر پر کیس سے بچتے تھے اور غرباء کی خدمت کی طرف اپنی توجہ رکھتے تھے۔اسی وجہ سے ملازمت کے بعد کئی اچھے مواقع آپ نے کھوئے۔کیونکہ گوان میں آمدن زیادہ تھی۔اور رتبہ بڑا تھا۔مگر خدمت خلق کا موقع کم تھا۔میری بیوی مریم صدیقہ ان کی سب سے بڑی بیٹی تھیں جو تو ام پیدا ہوئیں۔پنشن کے بعد قادیان آگئے۔لیکن بوجہ صحت کی خرابی کے کوئی باقاعدہ عہدہ سلسلہ کا نہیں ہے سکے۔بلکہ جب طبیعت اچھی ہوتی تھی الفضل، میں مضامین لکھ دیا کرتے تھے۔بہرحال حضرت میر محمد اسمعیل صاحب حضرت مسیح موعود کے رفقا ہیں سے تھے اور آپ کے منظور نظر تھے۔آپ کی وفات کے بعد تمام ابتلاؤں میں سے محفوظ گذرتے ہوئے سلسلہ کی بہت سی خدمات بجالانے کا آپ کو موقعہ ملا۔اللہ تعالے ان کے روحانی مدارج کو بلند فرمائے۔+