مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 660
۶۵۹ مغربیت کی بیماری اور اسکے عوارض وعلامات میں نے بہت دفعہ دیکھا ہے کہ بعض جوشیلے نوجوان بڑے زور شور سے دھواں دھار تقریریں کرتے ہیں اور اُٹھتے ہی میز پر مکا اور فرش پر بوٹ کی ایڈی مار کہ یہ فقرہ زبان پر لاتے ہیں۔کہ ہم مغربیت کو فنا کر کے رکھ دیں گئے۔یا مغربیت کی موت ہمارے ہاتھوں سے واقع ہوئی مقدر ہو چکی ہے۔یا یہ کہ ہم اسلام کو دوبارہ دنیا میں قائم کر کے رہیں گے اب مغربیت اپنا بوریا بستر باندھ لے۔جب وہ ایسے ایسے فقرے چُست کر چکتے ہیں۔تو ان کی تقریر کے بعد اگر اپنی سے مغربیت کے معنی یا مغربیت کے آثار و قرائن کے متعلق پوچھا۔جائے تو معلوم ہوگا۔کہ وہ اس لفظ کے مفہوم سے ہی نا واقف ہیں۔ہاں ایک لفظ طوطے کی طرح راٹ رکھا ہے یا اگر میل معنی کسی کتاب میں سے پڑھ لئے ہوں گے تو تفاصیل کے متعلق کر دے ہوں گے اور اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ پچاس فیصد مغربیت خود ان کے اپنے گھروں یا سو سائٹی میں گھسی ہوئی نظر آئے گی بلکہ عملاً شائد وہ خود ہی مخربیت کا نمونہ ہوں گے۔خواہ مجلسوں میں بطور رواج وہ اس مغربیت کو گالیاں ہی دیتے رہتے ہوں۔ہر چیز اپنے آثار اور صفات سے پہچانی جاتی ہے۔اسی طرح ہندوستان والوں کے لئے اور خصوصا ہندی مسلمانوں کے لئے اس مرض کے بعض مشہور علامات ہیں جنہیں دیکھ کر ہم معلوم کر سکتے ہیں کہ یہ لوگ مغربیت کی بیماری میں مبتلا ہیں ورنہ صرف مختصر کتابی تعریف شنا کر مریض کو اپنے مرض کا قائل نہیں کیا جاسکتا۔مگر جب ذرا تفصیل سے اس بیماری کی علامات بتائی بہائیں۔تب اکثر لوگوں کو پتہ لگتا ہے۔کہ ہم میں یہ مرض سرایت کر چکا ہے۔