مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 592
بھی نوٹ کریں۔۵۹۱۔حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) نے ایک نہایت خطرناک بددعا اپنے لئے اور اپنے سب متعلقین اور اولاد کے لئے کی ہے جس میں یہ مصرعہ آتا ہے تا آتش افشان به در و دیوار من اس میں خدا سے التجا کی ہے کہ اگر میں جھوٹا ہوں اور تیرے دین کو برباد کرنے والا ہوں تو مجھے اور میری سب اولاد کو تباہ کر دے۔اب اگر حضور کی سب اولاد دین اسلام اور احمدیت کو برباد کرنے والی ہو گئی ہے تو خدا تعالیٰ کو لازم تھا کہ اس بددعا کا اثرات پر دکھانا۔نہ یہ کہ اللہ ان کو ترقی دیتا اور ان کی تائید و نصرت کہتا۔اس سے معلوم ہوا کہ وہ سب حق پر جمع ہیں۔۔اسی طرح حضور کا ایک الہام ہے من اعرض عن ذكرى نبتيله بذرية فاسقة ملحدة يميلون الى الدنيا ولا يعبد ونتي شياء ا تذکرہ مشام) یعنی جو میرے ذکر سے روگردان ہو گا۔ہم اس کی اولاد کو فاسق اور محمد کو دیں گے۔اور ایسی اولاد خدا کی عبادت نہیں کرے گی بلکہ دنیا میں گر پڑیں گے۔اس کلام اہنی سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر (بقول غیر مبایعین) حضرت خلیفہ ثانی اور حضرت مسیح موعود کی تمام اولاد گمراہ اور ید کارا در گره کنندہ ہیں تو خود حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو بھی کبھی دستباز نہیں ہو سکتے۔کیونکہ بری اور فاسق اور دنیا دار اولاد اس بات کی منزل ہے کہ ان کا باپ خود بے ایمان ہو۔پس حضرت مسیح موعود (آپ پر سلامتی ہو) کو راستباز سمجھتے ہو۔تو کبھی ان کے لئے وہ ذلت اور منرا تجویز نہ کرو۔جو خدا نے بے ایمانوں کے لئے فرمائی ہے۔۔حضرت مسیح موعود ( آپ پر سلامتی ہو) کو یہ پیغامی سرغنے کہتے تھے کہ حضور جماعت کا نا جائز روپیہ خرچ کرتے ہیں۔ان سے حساب لیا جائے۔اسی طرح اب کہتے ہیں کہ جماعت کا روپیہ سیاسیات اور نا جائزہ امور پر خرچ ہوتا ہے۔حالانکہ قرآن مجید میں خدا نے حضرت سلیمان