مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 590
۵۸۹ حضور کے اپنے خاندان کی علمی ترقی ایک بیٹا مولوی فاضل۔اور آکسفورڈ کا بی۔اسے آنرز۔دوسرا بیٹا مولوی فاضل بی اے تیسرا ایم بی بی ایس میں تعلیم پاتا ہے۔باقی چھوٹے سب مدرسہ احمدیہ میں دینی تعلیم میں مصروف ہیں۔ایک داماد ہی۔اے آئی ہیں۔ایس۔ایک بھتیجا گر یجو یٹ اور بیرسٹر۔علاوہ ازیں آپ کے خاندان کی لڑکیاں بعض میٹرک پاس ہیں اور دینیات کالج میں ڑھتی ہیں۔بعض مولوی ہیں۔بعض ادیب بعض الیف۔اسے اور بعض امسال بی۔اے ہیں چاہیں ایک حضور کے روحانی خاندان کی ترقی علیم عزت اور وجاہت میں حضور کی توجہ سے سوا سے اوپر تو مولوی فاضل ہوں گے۔اور بہت سے فارغ التحصیل جامعہ احمدیہ کے علار ایک لشکر گریجوایٹوں کا جنتی کہ کئی عورتیں گر پچھوایٹ اور بی۔ٹی اور لیڈی ڈاکٹر ہیں۔ڈپٹی کمشنر انجنیئر وکیل بیرسٹر ، معزز سرکاری ملازم معزز تجار، اور معزز زمیندار حضور کی جماعت میں داخل ہیں۔پھر سر ظفر اللہ خان صاحب ہیں جنہیں سب لوگ جانتے ہی ہیں۔اور ان کے متعلق تو حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا ایک رویا ر مشہور ہے کہ حضور نے نہیں اپنے بیٹے کی طرح دیکھا۔اور سر پر ہاتھ پھیر لے اس طرح وہ بھی حضور کے خاندان میں داخل ہیں۔حضور کی اور حضور کے خاندان کی مالی ترقی راجپورہ کی زمین اور سندھ کا تیس میل لمبا علاقہ اس پر شاہد ہے۔مکانات شاہد ہیں۔مکہ قصیر خلافت بیت الحمد اور مسجد افظی کے قریب کے مکانات مالی ترقی اس طرح بھی ثابت ہے۔کہ حضور اور حضور کے خاندان کے چندے سب لوگوں سے زیادہ ہوتے ہیں۔