مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل

by Other Authors

Page 583 of 722

مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 583

۵۸۲ رہے ہیں۔ایک دفعہ آنحضرتصلی الہ علیہ وسلمنے فرمایا کہ ایک شخص اپنی گائے لئے جاتا تھا کہ تھکان کے مارے خود اس گائے پر سوار ہو گیا۔گائے نے اس سے کہا کہ ہم تو کاشتکاری کے لئے پیدا کی گئی ہیں نہ کہ سواری کے لئے۔صحابہ نے عرض کیا سبحان اللہ کیا گائے بیل بھی بولا کرتے ہیں۔اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔میں تو اس بات کو مانتا ہوں، بلکہ ابوبکگران اور عمر یہ بھی مانتے ہیں۔حالانکہ وہ دونوں اس مجلس میں موجود نہ تھے۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے علم میں حضرت ابو بکرم اور حضرت عمر یہ دونوں صاحب کشف تھے۔کیونکہ سب معاملہ اس گائے کی تقریر کا کشفی ہے۔رہا اس کا ثبوت سو یہ ہے کہ ایک۔دفعہ اپنی خلافت کے زمانہ میں حضرت عمریض نے جمعہ کا خطبہ پڑھتے پڑھتے یا ساریۃ الجبل ياسارية الجبل، پکار کر فرمایا۔حاضرین خطبه حیران ہوئے۔اور بعد نماز جمعہ اس کی بابت آپ سے سوال کیا۔آپ نے فرمایا کہ میں نے اسلامی تشکر کو میدانِ جنگ میں سخت مصیبت میں دیکھا اور ساتھ ہی یہ نظارہ دیکھا۔کہ اگر وہ پہاڑ کی طرف پنا دے لیں تو بیچ سکتے ہیں۔اس لئے میں نے سردار لشکر ساریہ کو آواز دی کہ پہاڑ کی پناہ لو۔پہاڑ کی پناہ لو۔کچھ مدت کے بعد جب اس شکر کے لوگ مدینہ میں آئے تو انہوں نے بیان کیا کہ ہم دشمن کے نرغے میں آگئے تھے۔لیکن ایک آواز آئی کہ اے ساریہ پہاڑ کی پناہ لو۔پس ہم ادھر چلے گئے۔اور تباہی سے محفوظ ہوگئے۔سو یہ مشہور کشف ہے جو حضرت عمرہ کو صاحب کشف ہونا ثابت کرتا ہے۔اسی طرح اذان کے کلمات بھی آپ کی معرفت ہی ہم مسلمانوں کو ملے ہیں۔پس چونکہ وہ خود محدث ملہم اور صاحب کشف تھے۔اس لئے ان کے لئے یہ مانا کیا مشکل تھا کہ بیل کلام کرتا ہے یا بھیڑیا ہوتا ہے۔جہاں عام لوگوں کے لئے یہ بات واقعی ناقابل فہم تھی۔اسی طرح ہمارے فضل عمر بچپن سے صاحب کشف و رڈیا والہام ہیں اور ان کا صرف ایک يمزقنهم والا الهام ؟ والا الہام ہی رہ سے آج تک ہتھوڑے کی طرح اہل پیغام کو توڑ توڑ کر پراکند کر کے دائمی محبت ان لوگوں پر پوری کر رہا ہے۔اور جب سے یہ دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی