مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 520
۵۱۹ صحابیہ کی رائے آپ کے جمال کی بابت برائو ، کہتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی الہ علیہ وسلم سے زیادہ کوئی حسین جیل نہیں دیکھا۔الدوسری یہ کہتے ہیں۔ہمیں نے ساری عمر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ خوبصورت کوئی شخص نہیں دیکھا۔آپ کا چہرہ سورج کی طرح نورانی تھا۔اور جب آپ نے تو دیوار پر چک معلوم ہوتی تھی۔جائز کہتے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک چاند کی طرح نورانی تھا۔آپ جس گلی کوچہ سے نکل جاتے تھے۔وہ معطر ہو جاتا تھا۔ام معید اور صحابہ کہتی ہیں کہ آپ غور سے دیکھنے میں سب سے زیادہ خوش اندام معلوم ہوتے اور پاس سے دیکھنے میں سب سے زیادہ حسین۔حضرت علی - فرماتے ہیں۔جو آپ کو پہلے پہل دیکھتا۔تو مرعوب ہو جاتا۔اور جو ملتا جلتا رہتا۔وہ آپ سے محبت کرنے لگتا۔میں نے نہ آپ کی زندگی میں اور نہ آپ کے بعد کسی کو ایسا حسین وجمیل دیکھا۔انس بیان کرتے ہیں۔کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بدن کی خوشبو سے زیادہ نہ کسی شک میں خوشبو پائی نہ منیر ہیں۔نہ کسی اور چیز ہیں۔اگر آپ کسی سے مصافحہ کرتے تو تمام دن اس شخص کو آپ کے مصافحہ کی خوشبو آتی رہتی اور اگر کسی بچے کے سر پر ہاتھ پھیر دیتے تو خوشبو کے سبب وہ اور لڑکوں میں پہچانا جاتا۔غرض حسن و جمال کا یہ عالم تھا کہ خود بھی جب کبھی آئینہ دیکھتے تو فرمایا کرتے تھے۔اللهم كما احسنت خلقى فاحس خلفی۔یعنی اے اللہ جس طرح تو نے مجھے جسمانی طور پرچین بنایا۔اسی طرح تو میرے اخلاق بھی نہایت پسندیدہ بنا دے۔صلى الله عليه واله وسلم