مضامین حضرت ڈاکٹرمیرمحمد اسماعیل — Page 164
۱۶۳ بھی دیا کہ نہیں لگائیں گے۔ابا جان چلے جاتے تو حضور پھر تھرما میٹر منگوالیتے با وجود اس کے کہ خلیفہ اسیح آپ کے بھانجے بھی تھے اور داماد بھی۔تاہم ابا جان آپ کا غیر معمولی (۳۵) احترام کرتے۔حضرت سیدہ انصرت جہاں بیگم اماں جان سے ابا جان کو عشق کی حد تک پیار تھا، حضرت سیدہ کسی چیز کی تعریف کرتے ابا جان فوراً دہ چیز آپ کی خدمت میں پیش کر دیتے (اماں جان) کہتی رہیں کہ اس کا یہ مطلب نہیں لیکن ابا جان نہ مانتے فرماتے مجھے ضرور دینی ہے تو پھر خرید کر دے دینا لیکن ابا جان اُسی وقت اُسے پیک PACK کروا دیتے۔میرے رشتہ کے لئے گھر تشریف لائیں ابا جان سے کہا میں تمہاری لڑکی مانگنے آئی ہوں۔آیا جان نے فرمایا میں آپ کی بات واپس نہیں کر سکتا ہے جائیں۔سیدہ موصوفہ نے مزید کہا۔بے شک یہ خدا کی تقدیر تھی کہ میں حضرت مصلح موعود کے عقد میں آئی۔لیکن اس کی ایک وجہ یہ بھی مفتی کہ ابا جان حضرت سیدہ کی بات ٹال نہ سکتے تھے۔حضرت میر محمد اسحق سے سیدہ کو اگر بیٹیوں کی طرح پیار تھا تو ابا جان پر انہیں بہت ناز تھا۔ابا جان ہمیشہ عید پہ اپنی آپا کو عیدی بھیجتے۔۔۔۔۔ابا جان سنایا کرتے تھے کہ آپا جاتی حضرت مسیح موعود کے لئے سیب منگوا کر رکھا کرتے ہیں کبھی گر گرمی محسوس ہوتی تو الماری کھولتے اور کہتے آپا کتنے سیب لادیں۔حضرت مسیح موعود تصنیف فرار ہے ہوتے ہماری آواز سُنتے تو سمجھ جاتے کہ ان کا سیب کھانے کو بھی چاہتا ہے آپ کے لبوں پر مسکراہٹ بکھر جاتی اور میں سیب مل جاتے (خانی) لازمت کے دوران ابا جان بہت معمور الاوقات تھے ہم نے تو آپ کے بڑھاپے ہی کو دیکھا ہے آپ بچوں کو نماز با جماعت کی بہت تاکید فرماتے تھے۔گھر میں نماز ادا فرماتے تو ہیں سامنے کھڑا کر لیتے دُعائیں یاد کراتے۔بچوں سے پیار بھی تھا۔لیکن کڑی نظر رکھتے تھے۔میں نے پانچویں تک گھر میں پڑھا۔آج یک آپ کے پڑھانے کا دلنشین