ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 842 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 842

انڈیکس تشخیص امراض (REPERTORY) 843 13۔بانجھ پن اور اسقاط حمل حمل کے دوران عمومی عوارض اور تسہیل ولادت کی دوائیں بانجھ پن میں اگر چہ سپیا (Sepia) کو ایک مؤثر دوا سمجھا جاتا ہے اور عموماً جسم کی ساخت سے پہیا کی پہچان کی جاتی ہے لیکن یہ درست نہیں۔جب تک سپیا کا مزاج کسی عورت میں نہ پایا جائے اس کی کسی بیماری کا علاج بھی سپیا سے ممکن نہیں۔اگر محض جسمانی ساخت سپیا سے مشابہ ہو تو ایسی عورتوں کے بانجھ پن میں سیپیا کی نسبت کالی فاس (Kali Phos) زیادہ کارآمد ثابت ہوتی ہے۔اعصابی تناؤ سے جو جنسی کمزوریاں پیدا ہوتی ہیں ان کا بھی کالی فاس علاج ہے۔اسی طرح جن عورتوں میں حمل گرنے کا مستقل رجحان پایا جائے ان کے تعلق میں بھی کالی فاس کو نہیں بھولنا چاہئے۔عام طور پر حمل کے آغاز میں حمل ضائع ہونے کا خطرہ ہو تو وائی برنم او پولس (Viburnum Opulus-Q) مفید ثابت ہوتی ہے۔اس مدر ٹنکچر کے دس پندرہ قطرے ایک گھونٹ پانی میں ملا کر پہلے اور دوسرے مہینہ میں با قاعدگی سے دینے چاہئیں۔تیسرے مہینہ میں سبائنا (Sabina) اور چوتھے اور پانچویں مہینہ میں کالی کارب (Kali Carb) زیادہ مؤثر بیان کی جاتی ہیں لیکن کالی فاس ہر مہینہ میں دی جاسکتی ہے۔پاؤں پھسلنے یا دیگر حادثات کے اثر سے حمل ضائع ہو جانے کا خطرہ ہو تو آرنیکا (Arnica) دینا ضروری ہے، ایسی صورت میں علامتیں ظاہر ہونے سے پہلے ہی 1000 طاقت میں آرنیکا دینا چاہئے۔اگر آرنیکا کے ساتھ کالی فاس 1000 ملا دی جائے تو اور بھی بہتر ہے۔اس کے علاوہ کولو فائیلم (Caulophyllum) بھی حفظ ماتقدم کے طور پر بہت مفید دوا ہے جو اکثر 200 طاقت میں بہت مفید ثابت ہوتی ہے۔جریان خون شروع ہونے پر کالی فاس کے ساتھ فیرم فاس (Ferr Phos ) ملانا بہت ضروری ہے۔نیز ملی فولیم (Millefolium) اور فاسفورس (Phosphorus) ملا کر دینے سے بعض دفعہ فوری فائدہ