ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 800
ٹیوبر کیولینم 800 ایشیائی اور افریقن ممالک میں غربت کی وجہ سے ملیر یا عام ہے۔چہرے زرد، پھیکے اور بے رنگ پڑ جاتے ہیں۔پھیپھڑوں کی تکلیفیں ، کھانسی ، دمہ وغیرہ عام ہوتی ہیں۔ٹیوبر کیولینم سے دمہ کی بیخ کنی کا موثر علاج کیا جا سکتا ہے کیونکہ سلی امراض بھی دمہ میں تبدیل ہو جاتی ہوں۔بعض ریتلے علاقے جہاں کثرت کے ساتھ نمونیہ، سل اور ملیریا بخار پائے جاتے ہیں وہاں رات کو اچانک ٹھنڈ کی وجہ سے نمونیہ ہو جاتا ہے جو پھیپھڑوں کو کمزور کر دیتا ہے۔پھیپھڑوں کی کمزوری کی وجہ سے سل ہونا کوئی عجوبہ نہیں۔ایسے ملیریائی علاقوں مثلاً سندھ میں ٹیوبر کیولینم مفید ہی نہیں بلکہ ضروری دوا بن جاتی ہے۔ملیر یا بخار میں عموماً سردرد ہوتا ہے جس کے ساتھ متلی بھی ہوتی ہے۔تپ دق کی علامتیں رکھنے والا مریض جس میں ملیریا نے گہرے اثرات چھوڑے ہوں اس کے سر درد میں بھی یہ دوا کام آتی ہے۔جسم میں دکھن اور بخار کی کیفیت اور ہر چیز سے بیزاری بھی ٹیوبر کیولینم کی علامت ہے۔بچوں کے بڑھتے چلے جانے والے سر کی بیماری میں جسے ہائیڈرو و كیفیلس (Hydrocephalus) کہتے ہیں جب بظاہر بالمثل دوائیں کام نہ کریں تو ٹیوبر کیولینم اونچی طاقت میں وہ ردعمل پیدا کر دیتی ہے جو عام دواؤں کو دکھانا چاہئے تھا لیکن وہ نہیں دکھاتیں۔ٹیو بر کیولینم میں پیٹ کی بہت سی علامتیں سلفر کے مشابہ پائی جاتی ہیں۔صبح کے وقت دست کا زور، کبھی پیچیش کبھی اسہال اور کبھی بہت قبض۔یہ سب انتریوں کی تکلیفیں ہیں۔اگر وقت پر ٹیوبر کیولینم سے ان کا علاج نہ کیا جائے تو بعض دفعہ مریض علاج کے قابل ہی نہیں رہتا اور انتڑیوں کے ناسوروں سے مستقل خون رسنے لگتا ہے۔اس بیماری کا علاج لمبے عرصہ تک ٹیوبر کیولینم دیتے رہنے سے ممکن ہوسکتا ہے۔مددگار دوائیں کلکیریا کارب چانا۔برائیو نیا۔سلمہ ھو جا۔ٹیوبر کیولینم کے بعد فسیلینم بھی اچھا کام کرتی ہے۔طاقت: روز مرہ 30 سے 200 تک یا حسب ضرورت بہت اونچی طاقتیں