ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 798
ٹیوبر کیولینم 798 گی۔ٹیوبر کولینم جسم میں گہرا رد عمل پیدا کرتی ہے اور اس کے اثر سے دوسری دوائیں جو ٹیوبر کیولینم دینے سے پہلے صحیح تشخیص کے باوجود کام کرتی تھیں، کام کرنے لگتی ہیں۔شیو بر کیولینم دینے کے بعد علاج شروع کیا جائے تو علاج زیادہ مؤثر ثابت ہوتا ہے۔ٹیوبر کیولینم کو اینٹی سورک (Anti-Psoric) دوا کہا جاتا ہے۔جلدی امراض سورک امراض کہلاتی ہیں۔ملیریا اور وہ سب بخار جو بار بار پلٹ آئیں جسم میں موجود رہتے ہیں اور وقتی طور پر دب جاتے ہیں لیکن ایک دو دن کے بعد یا اس سے بھی زائد وقفہ سے واپس آ جاتے ہیں۔ایسے بخاروں میں ٹیوبر کیولینم بہت مفید ہے۔کئی ڈاکٹر ملیریا بخار کے دوران بھی ٹیوبر کیولینم استعمال کرتے ہیں اور اسے ملیر یا تو ڑ کہتے ہیں۔اس میں ایک علامت یہ ہے کہ مریض جہاں بھی ہو وہاں سے کہیں اور جانا چاہتا ہے۔آرنیکا اور تھو جا میں بھی یہ بات پائی جاتی ہے۔ایک اور بات یاد رکھنی چاہئے کہ سل اور آتشک (Syphilis) دونوں کے مریض بیماری بڑھنے پر پاگل بھی ہو جاتے ہیں مگر دونوں کے پاگل پن میں فرق ہوتا ہے۔سل کے مریض عموماً سر میں شدید درد کے دوروں اور سینے کے اندرونی زخموں کی تاب نہ لا کر پاگل ہو جاتے ہیں۔سفلس کے مریض کا سارا جسم زخموں اور ناسوروں سے بھر جاتا ہے جو ہڈیاں بھی گلا دیتے ہیں۔ناک کی ہڈی گل کر بالکل بیٹھ جاتی ہے۔یہ مرض براہ راست دماغ پر بھی حملہ آور ہوتا ہے اور مریض کو مکمل طور پر پاگل کر دیتا ہے۔سل کے پاگل میں تشدد کا رجحان پایا جاتا ہے۔بعض دفعہ خاموش بھی ہوتا ہے۔بعض دفعہ نحیف وزار عورتیں جنہیں سل اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتی ہے پاگل ہو جائیں تو ان کے جسم میں بہت زیادہ طاقت آ جاتی ہے۔دماغ میں جوش پیدا ہو جاتا ہے اور وہ تشدد پر اتر آتی ہیں حالانکہ عام حالات میں بالکل خاموش طبع ہوتی ہیں۔اگر ٹیو بر کیولینم اونچی طاقت میں دی جائے تو یہ ایسے مریضوں کو پاگل پن سے بچاسکتی ہے۔کلکیریا سے ٹیوبر کیولینم کا ایسا گہرا تعلق ہے کہ بعض ڈاکٹروں کے نزدیک یہ ایک دوسرے کے ساتھ ادل بدل کر بھی دی جاسکتی ہیں۔