ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 774 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 774

سٹیفی سیگریا 774 برداشت کرنے کے نتیجہ میں ہو اس میں سٹیفی سیگر یا کو اول مرتبہ حاصل ہے۔قریبی عزیزوں کی زیادتی کے خلاف غصہ دبانے کے نتیجہ میں عموماً سپیا کی مریضہ بنتی ہے۔سٹیفی سیگریا کے مریض کے چھوٹے اور معمولی زخم کو اگر چھوا جائے تو شدید تشنجی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جو اعصابی زود حسی کا طبعی نتیجہ ہوتی ہے۔بواسیر کے مسوں میں بھی سخت تکلیف محسوس ہوتی ہے اور مریضہ چھوٹی چھوٹی جسمانی بیماریوں پر شدید تکلیف کا اظہار کرتی ہے۔اس کے اعصاب میں اتنا تناؤ ہوتا ہے کہ وہ چھوٹی سی تکلیف کو بھی بہت شدت سے محسوس کرتی ہے۔ملنے جلنے والے لوگ اس کے بارے میں کہنے لگتے ہیں کہ بہانہ کرتی ہے۔یہ باتیں سن کر اس کی تکلیف اور بھی بڑھ جاتی ہے اور بعض دفعہ اسے بے ہوشی کے دورے پڑنے لگتے ہیں۔ایسی مریضا ؤں کو سٹیفنی سیگر یا دینا ضروری ہے۔اس کے تعلق میں جو بیماریاں سامنے آتی ہیں وہ خاموشی کے دورے، بے خوابی ، جسم میں تھکاوٹ، ذہنی کوفت سوچنے سمجھنے کی صلاحیت میں کمی ، بات بھول جانا اور مثانے میں بے چینی کی وجہ سے کثرت پیشاب وغیرہ وغیرہ ہیں۔قوت سامعہ اور قوت شامہ متاثر ہوتی ہیں اور انگلیوں کے پورے بھی زود حس ہو جاتے ہیں۔معمولی سی آواز بھی برداشت نہیں ہوتی۔جلد پر بھی بیماریاں ظاہر ہوتی ہیں۔سر پر ایگزیما ہو جاتا ہے جس میں کوئی پھوڑا پھنسی وغیرہ نہیں ہوتے لیکن شدید درد اور تکلیف کا احساس ہوتا ہے۔جہاں بھی یہ علامات ہوں وہاں یہ دوا کام آتی ہے۔بعض دفعہ اعصاب پر ابھار اور گومڑ بن جاتے ہیں جن میں شدید درد ہوتا ہے۔سٹیفی سیگریا میں اعصاب کے غدود جنہیں اصطلاحاً Ganglia ( گین گلیا) کہتے ہیں زود حس ہوتے ہیں۔ذرا بھی ہاتھ لگ جائے تو اچانک درد شروع ہو جائے گا۔بغیر ہاتھ لگائے یا دباؤ کے بغیران میں درد نہیں ہوتا۔محض اعصاب کے غیر معمولی حساس ہونے کی وجہ سے تکلیف ہوتی ہے۔مردوں میں یہ دوا پراسٹیٹ کی تکلیفوں میں مفید ہے۔پراسٹیٹ گلینڈ ز بڑھ جائیں