ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 42 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 42

42 سہارا لینے پر مجبور کر دیتی ہیں۔لیکن پیٹ کی ہوا کا اصل اور مستقل علاج تو مزاجی دوا کا استعمال ہے ورنہ کچھ عارضی افاقہ کے لئے کبھی ایک دوا کا سہارا لینا پڑے گا کبھی دوسری کا۔انتڑیوں کی طبیعی حرکت میں کمی واقع ہو جائے تو نکس وامیکا سب سے اچھا کام کرتی ہے۔ہوا میں غیر معمولی بد بو پائی جائے تو کار بو ویج غالباً بہتر اثر کرے گی۔معدہ کے منہ پر تیزابیت کی وجہ سے شکنجہ سا آ جائے اور کھانا متعفن ہونے کی وجہ سے سخت بد بو پیدا ہواور ہوا معدہ میں اکٹھی ہوتی رہے تو یہ باتیں کار بو بیچ کی پہچان میں محمدثابت ہوتی ہیں۔چانکا پیٹ کی ہوا میں اس صورت میں مفید ہے جبکہ چاکا کی دوسری علامتیں بھی موجود ہوں یعنی مریض کے مزاج میں خشکی اور ملیریا کے بداثرات کی عمومی علامتیں ملتی ہوں۔بعض دفعہ لعابوں کی کمی کی وجہ سے انتریوں میں جگہ جگہ ہوا رک جاتی ہے۔چائنا ایسے مریضوں سے تعلق رکھتی ہے جن کے لعاب خشک ہو رہے ہوں اور انتڑیوں کے گلینڈز اپنا پورا کام نہ کریں۔اس طویل ضمنی بحث کے بعد اب ہم واپس اصل دوا کی طرف لوٹتے ہیں۔سمندری غذا خصوصاً آؤ سٹر کھانے کا رد عمل ایلو کے مریض پر فوری اسہال کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے۔متلی اور قے کے ساتھ سر میں درد ہوتا ہے عموماً اس کا سر درد ماتھے یعنی سر کے اگلے حصہ سے شروع ہوتا ہے۔آنکھیں سرخ اور بوجھل ہو جاتی ہیں اور کھولنی مشکل ہوتی ہیں، ہونٹ خشک ہو جاتے ہیں، کھانا چباتے ہوئے کانوں میں شور محسوس ہوتا ہے۔بعض اوقات صبح اٹھتے ہی ایلو کے مریض کے ناک سے خون جاری ہو جاتا ہے۔مریض کا منہ کڑوا ہو جاتا ہے۔دائیں طرف پسلیوں کے نیچے در دبھی ایلو کی خاص علامت ہے۔اسہال کے ساتھ پیٹ میں مروڑ بھی اٹھتے ہیں۔بواسیر کے مسے گچھوں کی صورت میں لٹکے ہوئے ہوتے ہیں اور ان میں شدید جلن اور درد ہوتا ہے۔ٹھنڈا پانی لگانے سے