ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 669
پکرک ایسڈ 669 خصوصاً نو جوانوں کی بعض کمزوریوں کو دور کرنے میں اسے مؤثر بیان کیا جاتا ہے۔پکرک ایسڈ کے مریضوں میں یورک ایسڈ اور فاسفیٹ کی زیادتی اور سلفیٹ کی کمی ہوتی ہے۔پیشاب کے ٹیسٹ سے اس دوا کی نشاندہی ہو جاتی ہے۔بہت سی ایسی دوائیں ہیں جن میں نچلے دھڑ کی بیماریوں کا ذکر ملتا ہے اور بعض اوپر کے دھڑ پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ہومیو پیتھک پکرک ایسڈ نچلے دھڑ کے بوجھل پن کو دور کرتی ہے۔ریڑھ کی ہڈی اور ٹانگوں میں جو کمزوری محسوس ہوتی ہے اس کے لئے کو نیم اور فاسفورس بھی مفید ہیں۔غم کے بداثرات اور جذبات کے بہیجان کے نتیجہ میں سر درد کے علاوہ جو علامات بھی پیدا ہوتی ہیں ان میں پکرک ایسڈ بہت مفید ہے۔اس کے علاوہ ایمبراگر یسا، اگنیشیا، نیٹرم میور، ایسڈ فاس اور سلیشیا بھی غم کے بداثرات کو دور کرنے میں نمایاں مقام رکھتی ہیں۔ان کی پکرک ایسڈ سے پہچان مشکل نہیں ہے۔پکرک ایسڈ کیل مہاسوں کے لئے بھی مفید ہے۔جولوگ خون کی کمی کا شکار ہوں اور جسمانی اور ذہنی محنت سے تھک چکے ہوں ان کے لئے بھی بہت مفید ہے۔پکرک ایسڈ میں سر درد کو لیٹنے اور سر کو کس کر باندھنے سے آرام آتا ہے لیکن حرکت سے، جھکنے سے اور دماغی محنت سے درد میں اضافہ ہو جاتا ہے۔کھلی اور ٹھنڈی ہوا میں آرام محسوس ہوتا ہے لیکن مرطوب موسم میں درد بڑھ جاتا ہے۔طاقت: 30 سے 200 تک