ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 500 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 500

500 کالی کارب اسے بہت باریک نظر سے علامتوں کو دیکھنا اور ان سے نتائج اخذ کرنا پڑتے ہیں۔عام اعصابی تکلیفوں کے علاوہ کالی کا رب دل کی بیماری میں بھی مفید ہے خصوصا دل کی غیر معمولی دھڑکن میں۔کالی کا رب میں بواسیر کے ٹیومر گول گول مسوں کی بجائے لمبی غدودوں کی شکل میں پائے جاتے ہیں جن میں شدید جلن ہوتی ہے۔ٹھنڈے پانی سے وقتی طور پر آرام آتا ہے اور جلن کی شدت میں کمی آجاتی ہے۔کالی کا رب کی پیٹ کی خرابیوں میں دردضرور ہوتا ہے مثلاً پیچش ہوگی تو درد کے ساتھ ہوگی البتہ اسہال عموماً بغیر درد کے ہوتے ہیں جو قبض سے ادلتے بدلتے رہتے ہیں۔پیشاب کے بعد جلن کی شکایت ہو تو عمو مانیٹرم میور مفید دوا ہے لیکن اگر جلن پیشاب سے پہلے بھی ہو اور درمیان میں بھی اور بعد میں بھی ہو تو نیٹرم میور کام نہیں کرتی۔یہ علامت کالی کارب کی ہے۔خواتین کے لئے یہ بہت اچھی دوا ہے۔خصوصاً بچے کی پیدائش کے بعد جب کئی قسم کی الجھنیں پیدا ہو جاتی ہیں تو ان میں سب سے پہلے کالی کا رب کا خیال آنا چاہئے کیونکہ یہ بالعموم ان الجھنوں کو دور کرنے کی بہترین دوا ہے۔بلکہ رحم کی صفائی (DNC) کے بعد پیدا ہونے والی۔علامات میں بھی اچھا اثر دکھاتی ہے۔بڑھی ہوئی غدودوں خصوصا رحم کی بڑھی ہوئی غدودوں سے کالی کا رب کا بھی تعلق ہے۔اگر دیگر علامتیں بھی ملتی ہوں تو حمل کی قے میں بھی استعمال ہوتی ہے۔وضع حمل کے وقت اگر بچے کی پیدائش میں روک پیدا ہورہی ہو اور در دیں جس انداز میں اٹھنی چاہئیں ویسے انداز پر نہ اٹھ رہی ہوں، کمر کے نچلے حصہ میں درد ہو اور درد کی لہریں ایک مقام پر نمایاں طور پر اکٹھی ہو کر ا ئیں اور بائیں رانوں میں پھیل جائیں تو کالی کا رب دوا ہے۔شدید کھانسی میں جس میں الٹی بھی آتی ہو بہت مفید ہے۔خسرہ کے بعد کھانسی کا حملہ ہو تو بھی کالی کا رب مفید ثابت ہوتی ہے۔