ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 356 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 356

ڈائسکوریا 356 کیکٹس (Cactus) میں بھی درد کی لہروں کا ماؤف حصے سے دوسرے اعضاء کی طرف منتقل ہونا ایک یقینی علامت ہے۔لیکن اس کی تشخیص جن علامتوں پر کی جاتی ہے وہ ڈائیا سکوریا سے بالکل مختلف ہیں مثلا اگر اس کے مریض کی دماغی جھلیوں میں یا بیرونی عضلات میں تشنج ہو تو اس سے جو درد کی لہریں نکلتی ہیں وہ پاؤں کے انگوٹھے تک نیچے اترتی ہیں۔ڈائیا سکور یا بہت زیادہ چائے پینے سے پیدا ہونے والے بداثرات کا بھی تریاق ہے۔ڈائیا سکوریا کے مریض کے پیٹ کی ہوا میں بہت بد بو ہوتی ہے۔صبح کے وقت منہ کا ذائقہ کڑوا ہوتا ہے اور زبان پر سفید موٹی تہہ جم جاتی ہے۔یہ پیٹ کے اعصابی دردوں کے لئے بھی بہت مفید دوا ہے۔اس کا مریض چیزوں کے نام غلط یا درکھتا ہے اور وہی پکارتا ہے۔دونوں کنپٹیوں میں ہلکا ہلکا در در ہتا ہے جو ہلکے دباؤ سے کم ہوتا ہے۔ڈائیا سکوریا میں خونی بواسیر بھی ملتی ہے۔مسے سرخ انگور کے گچھوں کی طرح ہوتے ہیں۔اسہال بھی آتے ہیں جو صبح کے وقت شدت اختیار کر جاتے ہیں۔جلن کا احساس ہوتا ہے۔ڈائیا سکوریا کا مریض سارے سینے میں گھٹن اور تناؤ محسوس کرتا ہے۔سانس لینے پر سینہ پوری طرح پھیلتا نہیں ہے اس لئے مریض چھوٹے چھوٹے سانس لیتا ہے۔ہاتھوں کے ناخن جلد ٹوٹتے ہیں اور بہت خستہ ہو جاتے ہیں۔اس کی تکلیفیں شام کے وقت نیز الٹا لیٹنے اور آگے جھکنے سے بڑھتی ہیں۔سیدھا کھڑے ہونے ، آہستہ آہستہ ٹہلنے اور ہلکے دباؤ سے کم ہو جاتی ہیں۔کیمومیلا اور کیمفر اس کے اثر کو زائل کرنے والی دوائیں ہیں۔طاقت: 30 تک