ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 321 of 905

ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 321

کا لچیکم چھوٹے فیتوں کی شکل میں نکلتے ہیں۔321 بڑی آنت کا فالج ہو جاتا ہے جو عموماً مستقل نہیں بلکہ عارضی حیثیت کا ہوتا ہے۔نتیجتاً با وجود اس کے کہ اجابت کی حاجت محسوس ہوتی رہتی ہے فضلہ نکالنے کی طاقت نہیں ہوتی اور ایسا مریض زور لگانے کے باوجود نا کام رہتا ہے اور دوسرے ذرائع اختیار کرنے پڑتے ہیں۔ہاتھ پاؤں بازو اور ٹانگیں بائی یا گنٹھیا کے دردوں میں مبتلا ہو جاتے ہیں جن سے جوڑوں میں سختی پیدا ہو جاتی ہے۔بائی کی دردیں جگہ بدلتی رہتی ہیں اور عموماً رات کو بڑھتی ہیں۔اس کے گاؤٹ یعنی گنٹھیا میں پاؤں کے انگوٹھے اور اس کے اردگرد کے عضلات متاثر ہوتے ہیں۔جلد سرخ ، سخت متورم، چمکیلی اور انتہائی زود حس ہو جاتی ہے۔اتنی زیادہ کہ کپڑے کا لمس تک نا قابل برداشت ہوتا ہے۔ایسے مریض اپنے بوٹوں کے چمڑے کو انگوٹھے کے اردگرد سے کٹوا لیتے ہیں تا کہ اگر چل کر باہر جانا ہوتو درد برداشت کے دائرے میں رہے۔پیشاب : جب بھی پیشاب گہرے رنگ کا اور خون کی آمیزش والا یا نسواری ، سیاہی مائل اور تھوڑا ہوگا تو بائی کے دردیں اور گنٹھیا کی تمام علامتیں زیادہ شدید ہو جائیں گی۔دل :- اگر تیز دواؤں سے اسہال دبا دئیے جائیں تو دل پر گنٹھیا کا حملہ ہو جاتا ہے اور مجلس کی سخت نگلی بھی محسوس ہوتی ہے۔طاقت : 200 30 لیکن بعض ہو میو پیتھ 3 طاقت میں بھی استعمال کرتے ہیں واقعات میں بھی ہیں