ہومیوپیتھی یعنی علاج بالمثل — Page 259
کارڈس میر یانس 259 63 کارڈس میر یانس CARDUUS MARIANUS کارڈس میریانس جگر کی ایک بہت اہم دوا ہے۔میں نے اسے بارہا جگر کے مریضوں میں باقاعدگی سے استعمال کروایا ہے۔اسے لمبا عرصہ کھلاتے رہنے سے بھی کوئی منفی اثر نہیں دیکھا۔اس دوا کا خاص اثر جگر اور دوران خون کے نظام پر ہوتا ہے۔گوا سے عموماً جگر کی دوا ہی سمجھا جاتا ہے لیکن اس میں اور بھی بہت سی علامتیں ملتی ہیں مثلا اس کے مریض میں نکسیر بنے کا رجحان ہوتا ہے اس کے ساتھ سر پر ٹھنڈی ہوا محسوس ہوتی ہے، آنکھوں میں باہر کی طرف دباؤ محسوس ہوتا ہے، ڈیلا با ہر کو ابھرا ہوا دکھائی دیتا ہے۔بیلاڈونا میں بھی یہ علامت ہے۔کارڈس میریانس میں پہلے ناک میں جلن محسوس ہوتی ہے پھر نکسیر پھوٹتی ہے۔کارڈس میریانس میں معدے کی علامتیں بھی ملتی ہیں کیونکہ جگر خراب ہو تو معدہ ضرور متاثر ہوتا ہے۔منہ کا مزہ کڑوا ہو جاتا ہے یا پھیکا اور بدمزہ۔زبان گندی ہو جاتی ہے، کھانے کی خواہش مٹ جاتی ہے۔معدے کی خرابی سے پیدا ہونے والی بد بو بھی آتی ہے۔اگر معدے میں یہ احساس ہو کہ درد بائیں سے دائیں طرف حرکت کر رہا ہے تو یہ بھی کارڈس میر بانس کی علامت ہے۔اس کا مطلب ہے کہ جگر کی بیماری معدے تک پھیل گئی ہے۔اس صورت میں سیاہ رنگ کے خون کی قے آتی ہے۔دائیں پسلیوں میں اور سینے میں درد ہوتا ہے جو حرکت سے بڑھتا ہے۔سینے کا درد کندھوں، کمر اور پیٹ تک پہنچتا ہے۔بائیں جانب لیٹنے سے دائیں طرف درد ہوتا ہے جیسے کوئی نیچے کی طرف گھسیٹ رہا ہو۔یہ علامت اور بھی بعض دواؤں میں ملتی ہے۔