حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 80 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 80

80 اعُوذُ بِالله مِن الشيطنِ الرَّحِيم بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نِحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ هو الناصر عزیزم ناصر احمد سَلَّمَكَ اللَّهُ وَ حَفِظَكَ اللَّهُ وَنَصَرَكَ اللَّهُ وَوَفَقَكَ اللَّهُ لِحِدُمَةِ۔الدِّينِ وَإِعْلَاءِ كَلِمَةِ الْإِسْلَامِ السَّلَامُ عَلَيْهِمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ تمام علوم کا چشمہ اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ یہ وہ صداقت ہے۔جسے میرے کانوں نے سنا۔میری آنکھوں نے دیکھا۔اور میرے باقی حواس نے اس کا مشاہدہ کیا۔میں سنی سنائی بات پر ایمان نہیں لایا۔بلکہ میں نے اللہ تعالیٰ کے عریاں جلوے دیکھے۔اس کی قدرتوں کو اپنے نفس اور اپنے گرد کی اشیاء میں اچھی طرح مشاہدہ کیا۔پس میں ایک زندہ گواہ ہوں۔اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا ایک آئینہ ہوں۔اس کے حسن بے عیب کا اور دنیا کی کوئی دلیل مجھے اس کے در سے پھرا نہیں سکتی۔کوئی لالچ یا کوئی خوف مجھے اس سے دور نہیں کر سکتا۔میں نے دیکھا اور مشاہدہ کیا۔کہ اس کے دیئے ہوئے علم کے سوا کوئی علم نہیں اور اس کی دی ہوئی عقل کے سوا کوئی عقل نہیں۔دنیا کے عاقل اس کے سامنے بے وقوف ہیں۔اور دنیا کے عالم اس کے سامنے جاہل ہیں۔جو اس سے دور ہوا حقیقی علم