حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 673
623 انسانی صلاحیتوں کی نشوونما کی تحریک اجتماع خدام الاحمدیہ مرکزیہ منعقدہ ۱۵۔اکتو بر ا۱۹۷ء میں فرمایا :۔" اللہ تعالیٰ نے انسان کو احسن تقویم میں پیدا کیا اور احسن تقویم کی پیدائش کے نتیجہ میں اصولی طور پر اسے چار قسم کی قوتیں اور استعدادیں دیں ایک جسمانی طاقت ہے۔پھر ذہنی استعداد ہے۔پھر اخلاقی قومی اور استعدادیں ہیں اور پھر روحانی قومی اور استعدادیں ہیں ؟ حضور نے ان استعدادوں کی نشوو نما کی تحریک فرمائی۔حضور نے فرمایا۔قرآن کریم پر غور کرنے سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اصولی طور پر ہمیں چار قسم کی قوتیں اور صلاحیتیں عطا ہوئی ہیں (۱) جسمانی (۲) ذہنی (۳) اخلاقی اور (۴) روحانی مزید فرمایا :۔اسلام ہمیں حکم دیتا ہے کہ ہر قسم کی قوت کی نشو و نما کو کمال تک پہنچانے کے لئے انتہائی کوشش کرنی ضروری ہے اور ان چار قسموں میں سے کسی قسم کی قوت اور صلاحیت کو نظر انداز کرنے کی اجازت نہیں کیونکہ وَلِنَفْسِكَ عَلَيْكَ حَقٌّ کی رو سے انسان کی تمام طاقتوں اور قوتوں کی صحیح صحیح اور کامل نشو و نما ہونی چاہئے " ۵) جلسه سالانه ۱۹۷۴ء کے موقع پر فرمایا:۔پس ان سب دعاؤں کے ساتھ ہم اپنے اس جلسہ سالانہ کا افتتاح کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نوع انسان کی خوشحالی کے سامان پیدا کرے۔اللہ تعالیٰ نوع انسان کے لئے روحانی ، اخلاقی ، ذہنی اور جسمانی طور پر حقیقی