حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 646
595 حضرت خلیفۃ المسیح الثالث" کی تینوں عظیم الشان تحریکات کا مجموعی مقصد محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جاری کردہ روحانی دریا پر بند بنا کر ساری دنیا کو سیراب کرنا ہے حضرت خلیفہ المسیح الثالث رحمہ اللہ نے ۵۔اپریل ۱۹۷۴ کے خطاب میں فرمایا :۔”ہماری جماعت کے ایک تو عام چندے ہیں چندہ عام ہے، چندہ وصیت ہے، چندہ جلسہ سالانہ ہے۔۔۔جن کے نتیجہ میں جماعت احمدیہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے روحانی لحاظ سے بلند سے بلند تر ہو رہی ہے لیکن بلندی کی طرف اس کی حرکت میں اتنی تیزی نہیں جتنی روحانی بند باندھنے کے ساتھ آنی چاہئے۔پھر اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ میں نظام خلافت قائم فرمایا۔خلیفہ وقت کی ایک ذمہ داری یہ ہے کہ وہ روحانی بند (Dam) بنائے چنانچہ حضرت مصلح موعود بنی اللہ نے علاوہ اور بہت سے اہم کاموں کے تحریک جدید کے نام سے ایک بہت بڑا روحانی بند تعمیر کیا۔۔۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جماعت احمدیہ کو اتنی روحانی رفعتیں عطا ہوئیں کہ روئے زمین پر جماعت احمدیہ کی شکل بدل گئی۔گو پہلے چند بڑے بڑے ملکوں میں جماعت قائم تھی لیکن اس میں وسعت نہیں تھی