حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 611 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 611

560 اسی طرح مشرقی افریقہ میں بھی تین مراکز بنا کر اسلام کی تبلیغ و اشاعت کے کام کو تیز سے تیز تر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔میں جب بھی مرکز کا لفظ بولتا ہوں تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ جہاں ایک مسجد اور مکمل مشن ہاؤس ہو۔۔۔۔یورپ میں اٹلی میں ہمارا کوئی مشن نہیں۔فرانس میں ہمارا کوئی مشن نہیں ہے۔حالانکہ ان دونوں ملکوں کی بہت بڑی اہمیت ہے۔اٹلی میں اس لئے کہ یہ کیتھولیسزم اس وقت بھی عیسائیت کے بہت (Catholicism) کا مرکز ہے۔بڑے حصے کا مرکز اٹلی ہے۔ان کا پوپ یعنی قائد اعلیٰ اٹلی میں رہتا ہے۔۔۔پھر فرانس میں بھی ہمارا کوئی مرکز نہیں حالانکہ فرانسیسی زبان بھی بہت مشہور زبان ہے یہ اس وقت بھی جبکہ برٹش ایمپائر اپنے عروج پر تھی انگریزی کے بعد دوسرے نمبر پر آتی تھی۔یہ بھی دنیا کے اکثر حصوں میں بولی جاتی تھی مثلاً مراکش۔۔۔۔۔مغربی افریقہ کے کئی ممالک۔۔۔۔۔۔سپین میں ہمارا مبلغ تو ہے لیکن کرایہ کے مکان میں رہتا ہے وہاں بھی مرکزی مشن ہاؤس اور مسجد کی ضرورت ہے اور سپین کی اہمیت یہ ہے کہ شمالی امریکہ اور کینیڈا میں تو انگریزی بولنے والے لوگ غالب آئے لیکن جنوبی امریکہ کے اکثر ملکوں میں سپینش زبان بولنے والے غالب آئے۔۔۔۔۔۔علاوہ ازیں تین ایسے ممالک ہیں۔۔۔۔۔ان کی ایک اور PAGICA وجہ سے بڑی اہمیت ہے وہ ہیں ناروے، سویڈن اور ڈنمارک۔اس علاقے میں عیسائیت بہت دیر بعد پہنچی ہے تاہم جب اس علاقے میں عیسائیت پہنچی تو لوگوں نے عیسائیت کو قبول کر لیا اور بڑی جلدی قبول کر لیا۔ہم امید رکھتے ہیں اور ہم دعائیں کرتے ہیں کہ اگر ہماری طرف سے صحیح طور پر اور صحیح طریقے پر اور وسیع پیمانے پر اسلام کو پیش کیا گیا تو یہاں کے عوام اسلام کو بھی اسی طرح جلد قبول کر لیں گے جس طرح انہوں نے ایک وقت میں عیسائیت کو قبول کر لیا تھا۔ڈنمارک میں ہماری