حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 537
484 تعداد شاید ہزار میں ایک بھی نہ ہو حالانکہ ہم نے تو دنیا کے ہر انسان کے ہاتھ میں قرآن کریم پہنچانا ہے اس لئے یہ خیال پیدا ہوا کہ ابھی سے ہمیں اس کا پورا جائزہ لے لینا چاہئے کہ یورپ میں کس جگہ باسانی ہم اپنا پریس کھول سکتے ہیں اور افریقہ میں کون سا ملک اس کام کے لئے زیادہ موزوں ہے۔چنانچہ اس وقت تک جو اشاعت قرآن ہوئی ہے اس میں افریقہ کا زیادہ حصہ ہے یہ کام نصرت جہاں آگے بڑھو سکیم" کے ماتحت ہو رہا ہے لیکن جماعت احمدیہ کا کام تو بہت پھیلا ہوا ہے اس سارے کام کے ہزارویں حصہ تک نصرت جہاں سکیم کا کام منحصر ہے لیکن چونکہ "نصرت جہاں منصوبہ" کے ساتھ اس کی ابتداء ہوئی تھی اس لئے قرآن کریم کی زیادہ اشاعت بھی افریقہ میں ہوئی۔۔۔۔۔امریکہ اور انگلستان میں اور اس طرح یورپ کے دوسرے ممالک میں اشاعت قرآن کریم کا جو کام ہے وہ کچھ مختلف ہے اور حقیقی معنی میں ابھی اس کی ابتداء بھی نہیں ہوئی یعنی وہاں اشاعت کے کام میں بھی وہ وسعت پیدا نہیں ہوئی جو افریقہ میں پیدا ہو چکی ہے۔۔۔اس وقت امریکہ کا معیار طباعت سب سے اونچا ہے۔روس کا ہمیں پتہ نہیں البتہ چین کا معیار بھی بہت بلند ہے امریکہ سے کم نہیں، یورپ کا معیار لیکن طباعت میں بڑا اونچا ہے شاید اتنا اونچا تو نہ ہو گا جتنا امریکہ کا ہے اگر فرق بھی ہے تو انیس بیس کا ہے اس سے زیادہ نہیں۔کم و بیش چار ہزار پونڈ کا کاغذ سویڈن سے خریدا گیا ہے اس پر قرآن کریم حمائل (درمیانہ سائز) کے چودہ پندرہ ہزار نسخے چھپ جائیں گے۔۔۔یہ نسخے ہم امریکہ اور یو پ بھجوائیں گے اور وہاں ایک منصوبہ کے یوپ تحت قرآن کریم کی اشاعت کی جائے گی۔میرا خیال ہے کہ وہاں بھی ہوٹلوں میں رکھوانے کا پروگرام بنایا جائے۔۔۔۔ساری جماعت دعا کرے