حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 526 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 526

473 المسیح کی حیثیت سے ان میں سے ہر دعوت کو دہراتے تھے تو خدا کی تائید و نصرت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعے رونما ہونے والے غلبہ اسلام کے ان زندہ و تابندہ ثبوتوں کے سلسلہ وار مشاہدہ پر اسلام و احمدیت کے ہزاروں ہزار فدائیوں پر وجد کی کیفیت طاری ہو جاتی تھی اور وہ اللہ تعالیٰ کی حمد سے لبریز ہو کر بے اختیار نعرہ ہائے تکبیر اسلام زندہ باد محمد رسول الله زنده باد مسیح موعود زنده باد حضرت امیر المومنین زندہ باد کے نعرے بلند کرنے لگتے تھے۔اس ۱۹۶۷ء کے دورہ یورپ کے دوران حضور نے فرمایا :۔፡ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ چیلنج آج بھی قائم ہے اور میں اس بات کا آج بھی اعادہ کرتا ہوں کہ رومن کیتھولک اور عیسائیوں کے دوسرے فرقوں کے سربراہ اس چیلنج کو قبول کریں اور اسلام اور عیسائیت کی سچائی کا فیصلہ کریں ۲ حضرت مسیح موعود کے چیلنج کے الفاظ یہ ہیں۔سو توریت اور انجیل قرآن کا کیا مقابلہ کریں گی۔اگر صرف قرآن شریف کی پہلی سورت کے ساتھ ہی مقابلہ کرنا چاہیں یعنی سورہ فاتحہ کے انجیل۔ساتھ جو فقط سات آیتیں ہیں اور جس ترتیب انسب اور ترکیب اور نظام فطرتی سے اس سورۃ میں صد یا حقائق اور معارف دینیہ اور روحانی حکمتیں درج ہیں ان کو موسیٰ کی کتاب یا یسوع کے چند ورق سے نکالنا چاہیں تو گو ساری عمر کوشش کریں تب بھی یہ کوشش لا حاصل ہو گی۔اور یہ بات لاف گزاف نہیں بلکہ واقعی اور حقیقی یہی بات ہے کہ توریت اور انجیل کو علوم حکمیہ میں سورۃ فاتحہ کے ساتھ بھی مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔ہم کیا کریں اور کیوں کر فیصلہ ہو۔پادری صاحبان ہماری کوئی بات بھی نہیں مانتے۔بھلا اگر وہ اپنی تو ریت یا انجیل کو معارف اور حقائق کے بیان کرنے اور خواص کلام الوہیت