حیات ناصر ۔ جلد اوّل

by Other Authors

Page 16 of 749

حیات ناصر ۔ جلد اوّل — Page 16

16 رم قائمقام ہو گا۔سو مبارک کے قائمقام میاں ناصر احمد ہیں کیونکہ ان کی شکل و صورت و حلیہ مبارک احمد مرحوم سے ملتا ہے اس لحاظ سے میاں اصر احمد صاحب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے فرزند ہی ہیں اور ان کو صحابہ مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام میں ہونے کی حیثیت Mee سے شامل ہونا چاہئے۔" ال ۱۹۶۵ء کے جلسہ سالانہ پر عورتوں سے خطاب کرتے ہوئے حضرت نواب مبارکہ : بیگم نے خلافت ثالثہ کے قیام کے بارے میں فرمایا :۔آپ سب حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت خلیفہ المسیح الثانی سے محبت کرنے والوں کے لئے یہ قیام خلافت دوہرا احسان الہی ہے۔ایک تو خلافت کا احسن طریق سے قیام۔پھر یہ کہ وہ شخص آپ کو دیا جو آپ کے محبوب خلیفہ کا لخت جگر ہے۔گویا اسی کا وجود دوسری صورت میں آپ کو دوبارہ بخش دیا گیا۔یہ بالکل درست ہے کہ جو بھی خلیفہ منتخب ہو تا سب کے سر اسی طرح جھکتے۔ہم سب کے دل اسی طرح شرح صدر سے اس کو قبول کرتے۔مگر یہ کیسا احسان مزید چاہنے والوں کے لئے کہ اس کی نشانی آپ کا موعود ہوتا جس کی خاص بشارت آپ کو حق تعالٰی نے دی تھی آپ کو کھڑا کر دیا کہ لو یہ تمہارے پیارے کا پیارا۔اسی مبارک وجود کا حصہ اسی کا لخت دل، تمہارے دلوں کی تسکین، تمہاری راہنمائی اور احمدیت کی خدمت کے لئے تم کو دیا جاتا ہے۔ee حضرت خلیفۃ المسیح الثالث کی خلافت کے پہلے جلسہ سالانہ کی ایک تصویر جو سٹیج پر لی گئی تھی اور جسے انلارج کروا کر سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کو پیش کی گئی۔اس تصویر کو دیکھ کر ان کی زبان پر مندرجہ ذیل تین اشعار جاری ہوئے۔خدا کا فضل ہے اس کی عطا ہے محمد کے وسیلے ނ ملا