حصارِ

by Other Authors

Page 27 of 72

حصارِ — Page 27

9 نزول و تائید ملائکه منصب خلافت جامع جملہ برکات الہیہ ہے۔جو خلافت سے وابستہ ہو جاتا ہے ملائکہ اللہ کی حفاظت میں آجاتا ہے۔وہ سوتا ہے تو فرشتے اس کے لیے جاگتے ہیں۔وہ دشمن سے بے خبر ہوتا ہے تو فرشتے اس کیطرف سے دفاع کر رہے ہوتے ہیں۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جب حضرت اسامیہ والے لشکر کو روانہ کر دیا تو مدینہ کی حفاظت کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرشتے مقرر فرما دیتے جو اسلام کی حفاظت کے ذمہ دار ہو گئے گویا أن تُمدَّكُمْ رَبُّكُمْ بِثَلَاثَةِ الآبِ مِنَ المَلائِكَةِ مُنْزِلِينَ - (ال عمران : ۱۲۴) والا مضمون تھا۔کہ تمہارا رب آسمان سے اترنے والے تین ہزار فرشتوں کے ذریعہ تمہاری مدد کرے گا لیا اس آیت میں گورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کی ایک جنگ میں نزول ملائکہ کا ذکر ہے لیکن خلیفہ راشد چونکہ رسول کی صفات کا مظہر ہوتا ہے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السّلام فرماتے ہیں :- دو رسول کا جانشین حقیقی معنوں کے لحاظ سے رہی ہو سکتا ہے جو ظلی طور پر رسول کے کمالات اپنے اندر رکھتا ہوں (شهادة القرآن مک) اس لیے تائید ملائکہ کے اعتبار سے خدا کا سلوک خلیفہ راشد سے ویسا ہی ہوتا ہے جیسا لہذا فرشتے خلافت کی وجہ سے مومنوں کے لیے حفاظت و ترقی کے سامان کرتے ہیں۔چنانچہ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف منافق اٹھے تو حضرت عبد اللہ بن سلام نے انہیں تنبیہ کی کہ خلافت کا وجود تائید دعون ملائکہ کا سبب ہوتا ہے۔