ہجرت سے وصال تک — Page 11
ہوشیار شخص عبداللہ بن ابی سلول نے لوگوں سے کہا کہ مجھے سردار مان لو میں صلح کرا کے یہ جنگ اور قتل وغارت ختم کر دوں گا۔ابھی وہ باقاعدہ طور پر سردار نہیں مانا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے سرداروں کے سردار دو جہانوں کی سرکار آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سرداری قائم فرما دی۔جو سردار بننے کا خواب دیکھ رہا تھا دل ہی دل میں سخت شمنی، حد اور کینہ پالنے لگا۔بچہ۔سردار جو نہیں بن سکا تو جلن کے مارے دشمن ہو گیا۔ہم نے مدینہ کے متعلق باتیں کر لیں اب آپ کے مدینہ پہنچنے پر لوگوں کی خوشی کا حال بھی سنائیے۔مال۔اُس کا حال کیسے سناؤں اتنی خوشی تھی ، اتنی خوشی تھی کہ مدینے والوں نے اتنی خوشی پہلے کبھی دیکھی ہی نہ تھی بڑے چاؤ سے اپنے اپنے ہتھیار سجا کر شان سے گلی محلوں میں گھوم رہے تھے ہر طرف سے نعرہ تکبیر الله اکبر کی آوازیں آرہی تھیں۔اللہ تعالیٰ کے پیارے نبی کا پیار اُن کو بے چین کر رہا تھا کون سی مبارک گھڑی آپ کا دیدار نصیب ہو گا۔ایک دن ایک یہودی کو جو اونچی جگہ کھڑا تھا دُور سے کچھ مسافر نظر آئے زور سے پکارا۔اہل عرب جس کا تم انتظار کر رہے ہو وہ یہ آتا ہے۔لوگوں کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔مدینہ میں محبوب ترین ہستی تشریف لا رہی تھی۔پہلے آپ مدینہ شہر سے دو اڑھائی میل دور دائیں طرف ہٹ کے ایک مقام قبا میں ٹھہر گئے۔